تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 252

کھلی مخالفت کی جرأت بھی نہ رکھتے تھے۔پوشیدہ مخالفت کرتے تھے۔جب اسلام کی مدد کا وقت آتا پیچھے ہٹ جاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اُن کے دل میں نہ تھی دنیا کی محبت میں مبتلا تھے اس لئے خدا تعالیٰ کی نصرت بھی جاتی رہی تھی۔آنحضرت ؐ پر اہل ِ مدینہ کا ایمان لانا ا صل بات یہ ہے کہ جب مدینہ والوں کو اسلام کی خبر ہوئی اور ایک حج کے موقع پر کچھ اہل مدینہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ کی صداقت کے قائل ہو گئے تو انہوں نے واپس جا کر اپنی قوم سے ذکر کیا کہ جس رسول کی آمد کا مدینہ میں رہنے والے یہودی ذکر کیا کرتے تھے وہ مکہ میں پیدا ہو گیا ہے اس پر اُن کے دلوں میں رسول کریمؐ کی طرف رغبت پیدا ہو گئی اور انہوں نے دوسرے حج پر ایک وفد بنا کر آپ کی طرف بھجوایا۔اس وفد نے جب آپ سے تبادلہ خیالات کیا تو آپ پر ایمان لے آیا اور آپ کی بیعت کر لی۔چونکہ اس وقت مکہ میں آپؐ کی شدید مخالفت تھی یہ ملاقات ایک وادی میں مکہ والوں کی نظروں سے پوشیدہ ہوئی اور وہیں بیعت بھی ہوئی۔اس لئے اسے بیعت عقبہ کہتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو مدینہ کے مومنوں کی تنظیم کے لئے افسر مقرر کیا اور اسلام کی اشاعت کی تاکید کی اور ان کی امداد کے لئے اپنے ایک نوجوان صحابی مصعب ابن ُعمیر کو بھجوایاتاکہ وہ وہاں کے مسلمانوں کو دین سکھائیں (سیرت ابن ہشام،بیعة العقبۃ الاولٰی و مَصعب بن عُمیر) یہ لوگ جاتے ہوئے آنحضرت صلعم کو یہ دعوت بھی دے گئے کہ اگر مکہ چھوڑنا پڑے تو آپ مدینہ تشریف لے چلیں جب یہ لوگ واپس گئے تو تھوڑے ہی عرصہ میں مدینے کے لوگوں میں اسلام پھیل گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اور صحابہ کو مدینہ بھجوا دیا جن میں حضرت عمرؓبھی تھے۔(سیرت ابن ہشام،ھجو عمر و قصّۃ عباس معہ) اس کے بعدہجرت کا حکم ملنے پر آپ خود وہاں تشریف لے گئے اور آپؐ کے جاتے ہی بہت تھوڑے عرصہ میں وہ سب اہل مدینہ جو مشرک تھے مسلمان ہو گئے۔مدینہ میں اسلام کے پھیلنے سے پہلے مدینہ کی حالت اسلام کے مدینہ میں پھیلنے سے پہلے مدینہ کی یہ حالت تھی کہ اس میں دو عرب قبیلے بستے تھے جن کا نام اَوس اور َخزرج تھا اور تین یہودی قبیلے بستے تھے جن کا نام بنوقریظہ، بنو نضیر اور بنو قینقاع تھا۔یہودی گو مالدار تھے اور علوم دنیوی سے آراستہ لیکن تھے اقلیّت میں۔اور ارد گرد کی عرب آبادی کو ملا کر اور بھی کمزور ہو جاتے تھے۔اس وجہ سے انہوں نے مدینہ میں دنیوی سیاست کا جال پھیلا رکھا تھا اور ’’اختلاف پیدا کر اور حکومت کر‘‘ کی سیاسی چال پر عمل پیرا تھے۔آئے دن اَوس اور َخزرج میں لڑائیاں کرواتے رہتے تھے او رمدینہ کے امن کو خراب کرتے رہتے تھے۔اسلام کے مدینہ میں آنے کے قریب زمانہ میں