تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 249

پانی کس طرح پلا سکتا ہوں حالانکہ تو ربّ العالمین ہے۔خدا فرمائے گا تجھ سے میرے فلاں بندے نے پانی مانگا تھا مگر تو نے اُسے پانی نہیں پلایا۔اگر تو اُسے پانی پلا دیتا تو ُتو اُسے میرے پاس پاتا یعنی تیرا یہ پانی مجھے پہنچتا۔اس حدیث سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے معاملہ کو اپنے ساتھ معاملہ قرار دیتا ہے۔پس جس طرح بندوں کو کھانا نہ کھلانا خدا تعالیٰ کو کھانا نہ کھلانا اور بندوں کی عیادت نہ کرنے کے معنے خدا تعالیٰ کی عیادت نہ کرنا اور بندوںکو پانی نہ پلانا خدا تعالیٰ کو پانی نہ پلانا ہو سکتے ہیں اسی طرح اس کے بندوں کو دھوکا دینا خدا تعالیٰ کو دھوکا دینا کہلا سکتا ہے۔اس طریق ِ کلام کو انجیل میں بھی استعمال کیا گیا ہے چنانچہ انجیل میں آتا ہے کہ مسیح کی آمدِ ثانی کے موقع پر سب قومیں اس کے سامنے پیش کی جائیں گی اور وہ مومنوں سے کہے گا کہ خدا تعالیٰ کی میراث حاصل کرو کیونکہ ’’میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا کھلایا۔مَیں پیاسا تھا تم نے مجھے پانی پلایا۔مَیںپردیسی تھا تم نے مجھے اپنے گھر میں اتارا۔ننگا تھا تم نے مجھے کپڑا پہنایا۔بیمار تھا تم نے میری عیادت کی۔قید میں تھا تم میرے پاس آئے۔اس وقت راستباز اُسے جواب میں کہیں گے اے خداوند! کب ہم نے تجھے بھوکا دیکھا اور کھانا کھلایا یا پیاسا دیکھا اور پانی پلایا۔کب ہم نے تجھے پردیسی دیکھا اور اپنے گھر میں اتارا۔یا ننگا دیکھا اور کپڑا پہنایا۔ہم کب تجھے بیمار یا قیدی دیکھ کر تجھ پاس آئے۔تب بادشاہ اُن سے جواب میں کہے گا میں تم سے سچ کہتا ہو ںکہ جب تم نے میرے اِن سب سے چھوٹے بھائیوں میں سے ایک کے ساتھ یہ کیا تو میرے ساتھ کیا۔‘‘ (متی باب ۲۵ آیت ۳۵ تا ۴۰) گو انجیل کے ناقلوں نے خدا تعالیٰ کی جگہ مسیح کو رکھ کر اس لطیف پُر استعارہ کلام کو بھونڈا بنا دیا ہے مگر اس سے یہ تو ثابت ہو جاتا ہے کہ کسی کے مقر ّب یا پیارے سے سلوک کرنا خود اُسی سے سلوک کہلا سکتا ہے اور اسی لطیف استعارہ کو يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ میں استعمال کیا گیا ہے۔وَ مَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ کا مطلب وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّا اَنْفُسَہُمْ میں اس حقیقت کو ظاہر کیا گیا ہے کہ منافقوںکے غیر مخلصانہ افعال خود اُن کے لئے وبال بن جائیں گے۔کیونکہ جو شخص دھوکے سے کام لیتا ہے آخر اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے اور وہ دنیا اور آخرت میں ذلیل ہوتا ہے پس جبکہ وہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ میں دوسروں کو دھوکا دے رہا ہوں وہ در حقیقت اپنے نفس کو دھوکا دے رہا ہوتا ہے اور خود اپنی تباہی کے سامان کر رہا ہوتا ہے۔وَمَا یَشْعُرُوْنَکی تشریح وَمَا یَشْعُرُوْنَ اور وہ سمجھتے نہیں۔شعور کے معنے جیسا کہ حَلِّ لُغَات میں بتایا جا چکا ہے باریک امورکے جاننے کے ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں اس کے مشابہ الفاظ علم، عرفان، عقل اور فکر کے استعمال ہوئے ہیں۔بظاہر یہ الفاظ مشابہ ہیں لیکن ان سب الفاظ کے معانی ایک دوسرے سے مختلف ہیں بلکہ جیسا کہ عربی