تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 248

اور مومنوں سے دھوکے کا معاملہ کرتے ہیں۔چنانچہ اس قسم کا محاورہ قرآن کریم میں کئی جگہ استعمال ہوا ہے۔جیسے کہ فرمایا اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ(الفتح:۱۱) یعنی جو لوگ تیری بیعت کرتے ہیں وہ در حقیقت اللہ تعالیٰ کی بیعت کرتے ہیں۔بیعت کے وقت خدا تعالیٰ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہوتا ہے۔اس آیت میں رسول کی بیعت کو خدا تعالیٰ کی بیعت قرار دیا ہے اسی طرح ایک دوسری جگہ فرماتا ہے فَاِنَّھُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ (الانعام :۳۴) کیونکہ وہ تیری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم اللہ تعالیٰ کے نشانات کی تکذیب کرتے ہیں۔اِن دونوں آیات میں رسول کے ساتھ ہونے والے ایک فعل کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا ہے اسی طرح آیت زیر بحث میں رسول سے ہونے والے ایک فعل کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا گیا ہے۔ایک حدیث قدسی میں بھی اس طریقِ کلام کو استعمال کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُوْلُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْ نِیْ قَالَ یَارَبِّ کَیْفَ اَعُوْدُکَ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ قَالَ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ عَبْدِیْ فُـلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْہُ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّکَ لَوْعُدْتَہٗ لَوَجَدْتَنِیْ عِنْدَہٗ یَا ابْنَ اٰدَمَ اِسْتَطْعَمْتُکَ فَلَمْ تُطْعِمْنِیْ قَالَ یَا رَبِّ کَیْفَ اُطْعِمُکَ وَ اَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ قَالَ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّہٗ اِسْتَطْعَمَکَ عَبْدِیْ فُـلَانٌ فَلَمْ تُطْعِمْہٗ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّکَ لَوْ اَطْعَمْتَہٗ لَوَجَدْتَ ذَالِکَ عِنْدِیْ یَا ابْنَ اٰدَمَ اِسْتَسْقَیْتُکَ فَلَمْ تَسْقِنِیْ قَالَ یَا رَبِّ کَیْفَ اَسْقِیْکَ وَ اَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ قَالَ اِسْتَسْقَاکَ عَبْدِیْ فُـلَانٌ فَلَمْ تَسْقِہٖ اَمَا اِنَّکَ لَوْ اَسْقَیْتَہٗ وَجَدْتَ ذَالِکَ عِنْدِیْ(مسلم کتاب البرّو الصّلۃ والاٰ داب باب فضل عیادۃ المریض) یعنی حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا اے آدم کے بیٹے! مَیں بیمار ہوا اور تو نے میری عیادت نہیں کی۔وہ کہے گا اے میرے ربّ !مَیں تیری عیادت کس طرح کر سکتا ہوں حالانکہ تو ربّ العالمین ہے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تجھے یہ علم نہیں ہوا تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہے مگر تو نے اس کی عیادت نہیں کی۔کیا تجھے یہ معلوم نہیں کہ اگر تو میرے اس بندے کی عیادت کو جاتاتو ُتو مجھے اس کے پاس پاتا۔پھر خدا فرمائے گا اے ابن آدم !مَیںنے تجھ سے کھانا مانگا مگر تو نے مجھے کھانا نہیں دیا۔وہ کہے گا اے میرے ربّ! میں تجھے کس طرح کھانا کھلا سکتا ہوں حالانکہ تو ربّ العالمین ہے۔خدا فرمائے گا کیا تجھے یہ علم نہیں ہوا تھا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا مگر تو نے اُسے کھانا نہیں دیا۔کیا تجھے معلوم نہیں کہ اگر تو اُسے کھانا کھلا دیتا تو ُتو اُسے میرے پاس پاتا۔اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا مگر تو نے مجھے پانی نہیں پلایا۔وہ کہے گا اے میرے ربّ! مَیں تجھے