تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 247
لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِي الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ(سبا :۴) کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اور ذرّہ بھر آسمانوں اور زمین کی چیزوں میں سے اس سے پوشیدہ نہیں ہے اور ذرّہ سے چھوٹی اور ذرّہ سے بڑی جتنی چیزیں بھی ہیں سب اس کو معلوم ہیں اور فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ١ؕ مَا يَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَيْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ (المجادلۃ :۸) کہ کیا تم کو معلوم نہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے خدا کو سب معلوم ہے۔کسی تین شخصوں کا مشورہ نہیں ہوتا مگر وہ ان میں چوتھا ہوتا ہے اور نہ کہیں پانچ کا مگر وہ ان میں چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم یا زیادہ مگر وہ جہاں ہوں خدا ان کے ساتھ ضرور ہوتا ہے۔پھر جو جو کام یہ کرتے ہیں قیامت کے دن ایک ایک کر کے ان کو بتائے گا بے شک خدا ہر چیز سے واقف ہے۔پھر فرماتا ہے۔يَعْلَمُ خَآىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَ مَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ (المؤمن :۲۰) وہ آنکھوں کی خیانت کو بھی جانتا ہے اور جو باتیں سینو ںمیں پوشیدہ ہیں ان کو بھی۔قرآن کی ایسی تعلیم کی موجودگی میں کسی کا یہ کہنا کہ مسلمانو ںکا خدا دھوکا میں آ جاتا ہے یا اس پر کسی شخص کا دائو فریب چل جاتا ہے ایک صریح ظلم ہے۔خلاصہ یہ کہ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ کے معنے اس جگہ یہ ہیں کہ (۱) وہ خدا تعالیٰ سے ایسا معاملہ کرتے ہیں جو دھوکے کے مشابہ ہے (۲) وہ خدا تعالیٰ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں حالانکہ وہ دھوکا میں نہیں آ سکتا (۳) وہ خدا تعالیٰ سے دھوکے کا معاملہ کرتے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ اُن کے غیر مخلصانہ افعال کی سزا دے گا۔(۴) وہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ رہے ہیں۔(۵) حَلِّ لُغَات میں ایک اور محاورہ بھی لکھا گیا ہے۔کہ عرب کہتے ہیں سُوْقٌ خَادِعَۃٌ بازار دھوکا دے رہا ہے اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ منڈی کے بھائو ایک رنگ میں نہیں چل رہے بلکہ کبھی یکدم بڑھ جاتے ہیں کبھی یکدم گھٹ جاتے ہیں۔ان معنوں کے رُو سے اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ منافقوں کا معاملہ خدا تعالیٰ سے اخلاص کا نہیں ہے کبھی وہ مومنوں کے رُعب میں آ کر اچھے کام کرنے لگ جاتے ہیں اور کبھی کفار کے اثر کے نیچے دین کی مخالفت شروع کر دیتے ہیں۔(۶) ایک معنے خِدَاعٌ کے فساد کے بھی حَلِّ لُغَات میں لکھے جا چکے ہیں۔ان معنوں کے رو سے اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ خدا تعالیٰ سے فساد کا معاملہ کرتے ہیں یعنی اُن کے کامو ںمیں اخلاص نہیں ہے۔(۷) ایک معنے اس کے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے دھوکا کرنے سے مراد یہ ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کے رسول