تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 246
سنو ہم سے کوئی شخص جہالت کا معاملہ نہ کرے ورنہ ہم جاہلوں سے زیادہ جہالت کا معاملہ کریں گے۔مطلب یہ کہ ہم طاقتور ہیں جو ہم پر حملہ کرے گا یہ اُس کی حماقت ہو گی ہم اُس کی حماقت کی اُسے سزا دیں گے کیونکہ کمزور کا طاقتو رپر حملہ جہالت کہلا سکتا ہے طاقتور کا جواب حماقت نہیں کہلا سکتا۔اسی طرح ابوالفول الطحوی کہتا ہے ؎ فَنَکَّبَ عَنْہُمْ دَرْءَ الْاَعَادِیْ وَ دَاوَوْا بِا لْجُنُوْنِ مِنَ الْجُنُوْنِ یعنی انہوں نے اپنی قوم سے دشمن کے حملہ کو دُور کیا اور جنون کا علاج جنون سے کیا۔اس جگہ بھی حملہ آور کے جنون سے مراد اس کا کمزور ہو کر طاقتور پر حملہ کرنا ہے پس طاقتور کا جواب جنون نہیں کہلا سکتا اس کے معنے محض جزاء کے ہیں۔غرض اگر باب مفاعلہ کے اصلی معنوں کو قائم رکھا جائے تب بھی اس آیت پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نسبت خَدَعَ کے لفظ کے معنے بسبب اس کے کہ یہ لفظ ایک جُرم کے جواب میں استعمال ہوا ہے صرف یہ ہوں گے کہ وہ اُن کے دھوکے کی سزا دے گا۔سورۂ نساء میں جو یہ الفاظ ہیں کہ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ(النساء :۱۴۳) اس کے بھی یہی معنے ہیں کہ منافق خدا تعالیٰ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں مگر وہ ان کے اس بدعمل کی اُن کو سزا دے گا۔يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ َکے معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ اللہ کو چھوڑتے ہیں۔چنانچہ اقرب میں لکھا ہے خَادَعَ الْحَمْدَ۔تَرَکَہُ یعنی جب خَادَعَ الْحَمْدَ کا محاورہ بولیں تو اس کے معنے ہوں گے اس نے حمد کو چھوڑ دیا۔یُخَادِعُوْنَ اللّٰہَ کا مطلب اللہ تعالیٰ کو دھوکا دینے کا قرآن مجید کی تعلیم کے خلاف ہے غرض اس آیت سے ہر گز یہ مطلب نہیں نکلتا کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی دھوکا دے سکتا ہے یہ تعلیم تو قرآن کریم کی صریح آیات کے خلاف ہے اور محض عناد سے ایسا خیال اس آیت کے متعلق کر لیا گیا ہے۔ورنہ قرآن کریم کے رو سے تو اللہ تعالیٰ ہر پوشیدہ سے پوشیدہ بات کو جانتا ہے۔اور اس تعلیم کی موجودگی میں یہ کہنا کہ قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق اللہ تعالیٰ کو دھوکا دیا جا سکتا ہے ایک ظلمِ عظیم ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ (ق :۱۷) کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم اس کے دلی خیالات تک سے واقف ہیں اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی اس سے زیادہ قریب ہیں۔اور فرماتا ہے۔اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (الانفال :۴۴) کہ اللہ تعالیٰ سینوں تک کی باتوں سے واقف ہے۔اور فرماتا ہے۔عٰلِمِ الْغَيْبِ١ۚ