تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 236

کڑی خدا تعالیٰ پر ایمان لانا ہے اور آخری کڑی یومِ آخر پر ایمان لانا۔پس اختصار کے لئے صرف پہلی اور آخری کڑی کا ذکر کر دیا گیا اور درمیانی امو رکو چھوڑ دیا گیا کیونکہ ابتدا اور انتہا کے ذکر سے درمیانی اُمور خود ہی سمجھ آ جاتے ہیں۔پس گو کفار کا قول اختصاراً یہی نقل کیا ہے کہ ہم اللہ اور یوم آخر پر ایمان لاتے ہیں لیکن مراد یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ سے لے کر یوم آخر تک سب امورِایمانیہ کو مانتے ہیں جیسے کہ ہماری زبان میں بھی کہہ دیتے ہیں کہ الف سے یاء تک سب بات سمجھ لی ہے۔قرآن کریم میں یہ طریق ِ کلام عام طور پر مستعمل ہے کیونکہ وہ سب علوم کی جامع کتاب ہے۔اس نے روحانی مسائل بھی اور جسمانی مسائل بھی اور الٰہیات بھی اور فلکیات بھی اور مادی ضرورتوں کے مسائل بھی بیان کرنے تھے۔اُس نے اقتصادی امور، اجتماعی امور، مدنی احکام، اخلاقی احکام، عبادات کے ساتھ تعلق رکھنے والے احکام، بندوں سے تعلق رکھنے والے احکام، حاکموں سے متعلق احکام، رعایا سے متعلق احکام، مالداروں سے متعلق احکام، غریبوں سے متعلق احکام‘ کارخانہ داروں سے متعلق احکام، مزدوروں سے متعلق احکام، خاندان سے متعلق احکام اور میاں بیوی سے متعلق احکام، جنگ، صلح، قضاء، اکل و شرب کے متعلق احکام غرض بیسیوں اور سینکڑوں اقسام کے احکام بھی اس نے بیان کرنے تھے، اُن کے علل و اسباب بھی بیان کرنے تھے، اور خدا تعالیٰ کے تازہ بتازہ نشانات بھی بیان کرنے تھے۔سابق انبیاء کے کام اور خدا تعالیٰ کے ان سے معاملات بھی اس نے بیان کرنے تھے اور آئندہ زمانو ںکے متعلق اخبار غیبیہ بھی بتانی تھیں تا ہر زمانہ کے مسلمانوں کے ایمانوں میں زیادتی ہو اور غیرمومنوں کے لئے موجباتِ ہدایت پیدا ہوں۔ایسی کتاب اس چھوٹے سے حجم میں آ ہی کس طرح سکتی تھی اگر اس میں لطیف اختصار سے کام نہ لیا جاتا۔عہد نامہ جدید میں ایک دو مضامین کے سوا اور ہے کیا؟ مگر اس کا حجم قرآن کریم سے بڑا ہے۔اسی طرح عہدنامہ قدیم بھی قرآن کریم سے بڑا ہے اسی طرح وید بھی قرآن کریم سے بڑے ہیں۔مگر وہ مضامین جن پر قرآن کریم نے بحث کی ہے کوئی ان کی صداقت کاقائل ہو نہ ہو اُسے یہ ضرور ماننا پڑے گا کہ اس کے مطالب کی فہرست دوسری کتب میں مذکور شدہ مطالب سے بہت ہی زیادہ ہے اور باوجود اس کے اس کا اختصار ایسا نہیں کہ وہ چیستان بن کر رہ جائے۔قرآن کریم کے ایک رکوع کے برابر بھی متنبی کے دیوان کے مضامین نہیں لیکن اس نے ایک ضخیم جلد شعروں کی لکھی ہے مگر وہ ہے ِچیستان ہی۔لیکن قرآن کریم نے سینکڑوں مسائل پر اختصار سے گفتگو کر دی ہے مگر پھر بھی پہیلیوںکی صورت نہیں پیدا ہوئی۔ہر شخص اپنی لیاقت کے مطابق اس کے مضامین کو سمجھتا ہے اور ایک عام اور سادہ زبان میں بیان کرنے والی کتاب اُسے پاتا ہے کسی جگہ بھی کوئی ایسی عبارت