تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 237
اُسے نظر نہیں آتی کہ جو پہیلیوں کی طرح کی ہو۔اس قسم کا اختصار ظاہر ہے کہ ایسے ہی لطیف اصولوں کی اتباع سے پیداہو سکتا ہے۔مثلاً ایک طبعی تقسیم کا ذکر کرنا ہو تو ابتدائی اور آخری کڑی کو بیان کر دیا۔کسی واقعہ سے کوئی فائدہ حاصل کرنا ہے تواس کے زائد حصوں کو چھوڑ کر صرف اس حصہ کو لے لیا جس سے استنباط کرنا ہے۔الفاظ وہ استعمال کئے جو نہایت وسیع معنے رکھتے ہوں۔جملوں کی بندش ایسی رکھی کہ ہر لفظ کے ہر معنے دوسرے الفاظ سے مل کر ایک الگ اور مستقل مضمون بیان کرتے ہوں، آیات میں ترتیب ایسی رکھی کہ آیت علیحدہ کر لی جائے تو اور مضمون ظاہر کرے اور دوسری آیات سے مل کر اور مطالب پر روشنی ڈالے۔پھر مختلف آیات کا مجموعہ دوسرے مجموعوں سے الگ کر کے الگ مطالب پر روشنی ڈالے اور دوسرے مجموعوں سے ملا کر ایک نئے معنے بھی دینے لگے۔ان اصولوں کو قرآن کریم نے اس لئے استعمال کیا تاکہ تھوڑے سے الفاظ میں غیر محدود مضامین بیان ہو جائیں۔مجھے اس تفصیل کی اس لئے ضرورت پیش آئی ہے کہ بعض نادان ایسی آیات سے یہ مضمون نکالتے ہیں کہ گویا صرف اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لانا کافی ہوتا ہے کیونکہ اس جگہ ایمان کے ثبوت کے لئے انہی دو باتوں کا ذکر ہے۔اور یہ لوگ ان زبردست اصولوں کو بھول جاتے ہیں جو جامعیّت اور اختصار کی خاطر قرآن کریم نے استعمال فرمائے ہیں اور جو تمام قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں جیسا کہ اس کے مطالب پر غور کرنے والے لوگوں پر یہ امر کَمَاحَقُّہٗ منکشف ہے۔شاید کوئی کہے کہ تمہارا یہ استدلال خود ساختہ ہے۔کس طرح معلوم ہو کہ قرآن کریم نے واقعہ میں زنجیر کی اوّل اور آخری کڑی بیان کر کے ساری زنجیر کی طرف اشارہ کیا ہے۔کیوں نہ سمجھا جائے کہ درحقیقت انہی دو باتوں کا بیان مقصود ہے کیونکہ یہی ایمان کی بنیاد ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآنِ کریم کا یہ بھی ایک معجزہ ہے کہ وہ ان اصولوں کی تشریح بھی خود ہی دوسری جگہ پر کر دیتا ہے۔چنانچہ اس آیت میں جو اختصار کیا گیا ہے۔اس کی وضاحت بھی دوسری جگہ مل جاتی ہے سورۂ انعام میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ (الانعام:۹۳) یعنی یہ کتاب اس شان کی ہے کہ اِسے خدا تعالیٰ نے اتارا ہے پھر اس کے اندر تمام ان کلاموں کی ضروری تعلیمات جمع ہو گئی ہیں جو اس سے پہلے نازل ہوئے تھے اور ان کتب سماویہ میں بھی اس کے بارہ میں خبریںتھیں جن کو اس کی آمد نے پورا کیا ہے۔یہ کتاب دنیا کو ہدایت دینے کے لئے نازل ہوئی ہے اور اس کے گرد کی دنیا کو ہوشیار کرنے