تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 235
جو کفر و عصیان سے مستقل طو رپر وابستہ ہے اور اس کے بد نتائج کا مستحق ہو چکا ہے۔انہی کے ذکر میں ضمناً اُن کفار کا بھی ذکر آ گیا جو گو عقیدۃً کافر ہیں لیکن اُن کے دلوں میں تعصب نہیں وہ صداقت کے سمجھ آ جانے پر اُسے قبول کرنے کےلئے بھی تیار ہیں اور اس کے سمجھنے کیلئے بھی کوشش کرتے ہیں کیونکہ جب یہ فرمایا کہ وہ کافر ایمان نہیں لائیں گے جنہوںنے ُسنا اَنْ ُسنا کر چھوڑا ہے اور جو اس حد تک متعصب ہیں کہ سچائی کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں تو اس سے ضمناً یہ نتیجہ بھی نکل آیا کہ جو کافر سنتے ہیں اور سچائی کو اگر سمجھ میں آ جائے ماننے پر آمادہ ہیں وہ جیسے جیسے انکشافِ تام ان پر ہوتا جائے گا ایمان لاتے چلے جائیں گے۔منافقین کا ذکر اور ان کی دو اقسام اب اس آیت سے قرآن کریم سے تعلق رکھنے والے ایک اور گروہ کا ذکر کرتا ہے جو منافقوں کا گروہ کہلاتا ہے۔مومنوں کی جماعت کو مدِّنظر رکھتے ہوئے منافق دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو صرف ظاہر میں مومنوں سے ملے ہوئے ہوتے ہیں لیکن دل میں منکر ہوتے ہیں اور ان کی ظاہری شمولیت محض دنیوی فوائد یا قومی جتھا بندی کی وجہ سے ہوتی ہے۔اور ایک وہ منافق جو عقلی دلائل سے تو ایمان کے اصول کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اُن کے اندر ایسی مضبوطی نہیں ہوتی کہ اس کے لئے پوری طرح قربانیاں کر سکیں پس ایسے لوگ اپنی عملی کمزوری کی وجہ سے نہ کہ عقیدہ کے اختلاف کی وجہ سے عمل میںُ سستی دکھاتے ہیں اور کبھی کفار کا زیادہ دبائو پڑے تو ان کی ہاں میں ہاں بھی ملا دیتے ہیں اور اُن سے تعلق و محبت بھی جتا دیتے ہیں اور دل میں خیال کرتے ہیں کہ جب صداقت کو اللہ تعالیٰ نے غلبہ دینا ہی ہے تو کیا حرج ہے کہ مداہنت کر کے ہم اپنے آپ کو نقصان سے بچا لیں۔اور یہ نہیں سمجھتے کہ اگر سب لوگ ہی اس طریق کو اختیار کر لیں تو صداقت کی تائید کون کرے؟ اور یہ خیال بھی نہیں کرتے کہ صداقت کو تو بے شک اللہ تعالیٰ نے فتح دینی ہی ہے لیکن اُنہیں اپنے انجام کا بھی تو خیال کرنا چاہیے اگر صداقت کامیاب ہو گئی مگر وہ صداقت کے منکروں میں شامل ہو گئے تو ان کو اس سے کیا فائدہ؟ آیت ھٰذا میں اعتقادی منافقوں کا ذکر آیت زیر تفسیر میں اُس تیسرے گروہ کے پہلے حصہ کا یعنی جو دل سے قرآن کریم کے منکر تھے لیکن ظاہر میں مسلمانوں میں شامل تھے ذکر کیا گیا ہے فرماتا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں کہ ظاہر میں تو وہ مسلمانوں میں شامل ہیں لیکن اُن کے دل میں اسلام کی صداقتوں پر پورا یقین نہیں ہے۔وہ منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور یوم آخر کو مانتے ہیں لیکن اُن کے دلوں میں اللہ اور یوم آخر پر کوئی ایمان نہیں۔ایمان لانے کے ذکر میں صرف اللہ اور یوم آخر پر ایمان لانے کے ذکر کی وجہ اس آیت میں صرف اللہ اور یوم آخر پر ایمان کا ذکر ہے کلام الٰہی یا انبیاء وغیرھما کا ذکر نہیں۔اس کی یہ وجہ ہے کہ ایمانیات کے سلسلہ کی پہلی