تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 234
وَالسَّلَامُ وَ یُوْصَفُ بِہٖ کُلُّ مَنْ دَخَلَ فِیْ شَرِیَعَتِہٖ مُقِرًّا بِاللّٰہِ وَبِنُبُوَّتِہٖ ‘‘۔یعنی ایمان کبھی اُس شریعت کے لئے بطور نام استعمال کیا جاتا ہے جو حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم لائے اور ایسے شخص کو جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور آنحضرت صلعم کی نبوت کا اقرار کرتے ہوئے شریعت محمدیہ میں داخل ہو۔ایمان کے ساتھ موصوف کرتے ہوئے مومن کہتے ہیں (یعنی لفظ مومن بولنے سے فوراً ذہن میں اس شخص کا تصور آتا ہے جو آنحضرتؐ پر ایمان رکھنے والا ہو) ’’وَتَارَۃً یُسْتَعْمَلُ عَلٰی سَبِیْلِ الْمَدْحِ وَیُرَادُ بِہٖ اِذْعَانُ النَّفْسِ لِلْحَقِّ عَلٰی سَبِیْلِ التَّصْدِیْقِ وَ ذَالِکَ بِاِجْتِمَاعِ ثَلٰـثَۃِ اَشْیَاءَ تَحْقِیْقٌ بِالْقَلْبِ وَ اِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ وَعَـمَلٌ بِحَسْبِ ذٰلِکَ بِالْجَوَارِحِ‘‘۔نیز کبھی لفظِ ایمان بطور مدح استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ تصدیق کے ساتھ ساتھ نفس نے حق کی پوری اطاعت بھی کر لی ہے اور حق کے پوری طرح تابع ہو جانےکا اظہار تین چیزوں کے جمع ہونے سے ہوتا ہے (۱) دل سے صداقت کو حق قرا ردینا (۲) زبان سے اس کا اقرار کرنا (۳) اعضاء سے اس کے مطابق عمل کر کے پوری طرح صداقت کے تابع ہو جانے کا اظہار کرنا۔گویا امام راغب نے اسی شخص کو حقیقی مومن قرار دیا ہے جس کے اندر تینوں مذکورہ بالا باتیں پائی جائیں۔اگر کسی میں ان میں سے کوئی ایک بات پائی جائے تو وہ مومن کہلانے کا حق دار نہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ تصریح فرما دی ہے کہ محض زبان سے اقرار یا صرف دل سے یقین کر لینا اور زبان سے اقرار نہ کرنا کوئی معنے نہیں رکھتا جب تک کہ یہ اکٹھے نہ ہوںچنانچہ فرمایا۔قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا يَدْخُلِ الْاِيْمَانُ فِيْ قُلُوْبِكُمْ (الحجرات :۱۵) یعنی اعراب نے مومن ہونے کا دعویٰ کیا ہے حالانکہ یہ درست نہیں۔کیونکہ انہو ںنے زبان سے تو کہہ دیا کہ وہ اسلام میں داخل ہو گئے لیکن ان کے قلوب میں ایمان داخل نہیں ہوا اور چونکہ ایسے لوگ مومن نہیں ہوئے اس لئے ان کے ایمان لانے کا دعویٰ غلط ہے۔ایک اور جگہ آل فرعون کی نسبت فرمایا۔جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَيْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ (النمل :۱۵) کہ انہوں نے ظاہر میں اور عمل سے اللہ تعالیٰ کے نشانات کا انکار کر دیا۔حالانکہ ان کے دل ان نشانوں کے سچے ہونے کا اقرار کر چکے تھے۔الغرض ایمان صرف منہ سے کسی بات کے اقرار کر لینے یا دل سے کسی کے سچا ہونے کا یقین کر لینے کا نام نہیں بلکہ جب تک (۱) دل سے صداقت کو حق قرار نہ دیا جائے (۲) اور پھر زبان سے اس کا اقرار کرتے ہوئے (۳) اعضاء سے اس کے مطابق عمل کا اظہار نہ کیا جائے اس وقت تک مومن کہلانا درست نہیں۔تفسیر۔هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠سے ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ تک اُس گروہ کا ذکر کیا جو ایمان پر مستقل طور پر قائم ہے اور اس کے ایمان سے جو فوائد وابستہ ہیں ان سے پوری طرح فائدہ اٹھاتا ہے پھر اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سے اُس گروہ کا ذکر کیا