تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 16
بجائے میں اللہ کا نام لے کر پڑھتا ہوں۔اور اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اس میں اللہ کے نام پر زور پیدا ہوتا ہے لیکن اگر پڑھتا ہوں پہلے رکھا جائے تو پڑھتا ہوں پر زور آجاتا ہے۔زمخشری کے یہ معنی لطیف ہیں۔میں نے ترجمہ میں انہی معنوں کو اختیار کیا ہے۔بِسْمِ اللّٰہِ کے محذوف متعلق کے رکھے جانے کی مناسب جگہ زمخشری نے سورۃ علق میں جو اِقْرَأْ پہلے آتا ہے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ اس موقع پر اِقْرَأْ پر زور دینا منظور تھا کیونکہ رسول کریم صلعم پڑھنے سے ہچکچاتے تھے۔(بخاری کتاب بدء الوحی) لیکن بِسْمِ اللّٰہِ میں پڑھنے پر زور دینا مقصود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر پڑھنے پر زور دینا مقصود ہے۔اس لئے اس جگہ پڑھنے کا لفظ بعد میں محذوف قرار دینا زیادہ مناسب ہے۔زمخشری کی یہ تشریح بھی نہایت لطیف ہے اور میں نے جو بِسْمِ اللّٰہِ کے دہرانے کے دلائل بیان کئے ہیں ان کے بالکل مطابق آتی ہے۔اسم بِسْمِ بَاء اور اسـم سے مرکب ہے اسم کا ہمزہ گر کر بسم ہو گیا۔عربی زبان میں بعض ہمزے بولے نہیں جاتے انہیں وصلی ہمزے کہتے ہیں۔لیکن بِسْمِ اللّٰہِ میں ہمزہ لکھا بھی نہیں گیا۔اس کی وجہ علمائِ صرف ونحو کثرت استعمال بتاتے ہیں۔نسائی اور اَخْفَش کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام ناموں سے پہلے جہاں بھی اسم کا لفظ آئے گا اس کا ہمزہ لکھا نہیں جائے گا لیکن فَرّاء کا خیال ہے کہ اس جگہ حذف چونکہ نقلاً ثابت ہے۔ہم بِسْمِ اللّٰہِ میں تو حذف کر دیں گے لیکن دوسرے صفات الٰہیہ سے پہلے چونکہ ایسا کرنا نقلاً ثابت نہیں۔ہم اس کے ہمزہ کو لکھنے میں ترک نہیں کریں گے۔(تفسیر البحر المحیط تفسیر سورۃ الفاتحۃ ) اِسْمٌ کے معنی اور اس کا اشتقاق اِسْـمٌ کے معنی صفت یا نام کے ہوتے ہیں (قاموس) اور یہ اس م سے نہیں بلکہ وس م یا س م و سے بنا ہے وائو الف سے بدل گئی ہے۔جنہوں نے اسے وس م سے بنا ہواقرار دیا ہے انہوںنے اس کے معنی نشان اور علامت کے قرار دیئے ہیںکیونکہ وَسَـمَ کے معنی نشان اور علامت کے ہوتے ہیں مگر جنہوں نے اسے س م و سے بنا ہو اقرار دیا ہے انہو ںنے اس کے معنی اونچا ہونے کے کئے ہیں۔(اقرب الموارد) اللّٰہ اللہ اس ذات پاک کا نام ہے جو ازلی ابدی اور اَلْحَیُّ الْقَیُّوْم ہے او رمالک اور خالق اور رب سب مخلوق کا ہے اور اسم ذاتی ہے نہ کہ اسم صفاتی۔اللہ اسم ذاتی ہے عربی زبان کے سوا کسی اور زبان میں اس خالق و مالکِ ُکل کا کوئی ذاتی نام نہیں پایا جاتا۔