تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 15

کے خیالات پیدا ہو کر انسان کو تباہ کر دیتے ہیں پس ان سے بچتے رہنا چاہیے۔اور ترقیات کو ظلم اور فساد کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے بلکہ امن اور خدمت کا ذریعہ بنانا چاہیے۔اور اللہ تعالیٰ سے اس غرض کے لئے دُعائیں کرتے رہنا چاہیے (غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ)(۱۷) جس طرح انسان ترقیات کو ظلم کا ذریعہ بنا لیتا ہے کبھی وہ ادنیٰ اشیاء کو رحم اور ناجائز محبت کی وجہ سے اونچا درجہ بھی دے دیتا ہے۔اس سے بھی بچنا چاہیے اور اس نیکی کے حصول کے لئے بھی اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتے رہنا چاہیے۔(وَ لَا الضَّآلِّيْنَ)۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں ) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا بار بار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں)۔حلّ لُغَات۔حرف باء اور اس کے معنے بِسْمِ اللّٰہِ کی ابتداء میں جو با ء آئی ہے وہ حروف ہجاء کا حرف نہیں بلکہ بامعنی حرف ہے۔عربی زبان میں حروف سے ہجاء کا کام لینے کے علاوہ معنوں کا کام بھی لیا جاتا ہے اور بعض حروف ہجاء کی علامت ہونے کے علاوہ بعض معنے بھی دیتے ہیں۔ان حروف میں سے باء بھی ہے۔یہ حروف ہجاء کا دوسرا حرف بھی ہے اور بامعنی حرفوں میں سے بھی ہے۔اس کے معنی معیّت اور استعانت کے ہیں اور اس کا لفظی ترجمہ ’’سے ‘‘اور ’’ساتھ ‘‘ہے مگر چونکہ ان لفظوں سے معنی واضح نہیں ہوتے اس لئے ’’لےکر‘‘ ترجمہ کیا گیا ہے جو دونوں معنوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے زیادہ مناسب ہے۔مطلب آیت کا یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق پکڑتے ہوئے اور اس سے مدد مانگتے ہوئے میں یہ کلام پڑھنے لگا ہوں۔بِسْمِ اللّٰہِ کے پہلے باء کا متعلق محذوف ہے باء حروف جارہ میں سے ہے یعنی جس اسم پر یہ حرف آتے ہیں اس کے آخری حرف پر زیریا زیر کی علامت آتی ہے۔عربی قاعدہ کی رُو سے ان حروف سے پہلے اکثر ایک متعلق محذوف ہوتا ہے جو عبارت کے مفہوم کے مطابق نکال لیا جاتا ہے۔اس آیت سے پہلے اِقْرَأْ یا اِشْرَعْ بعض نے محذوف نکالا ہے یعنی پڑھ یا شروع کر۔اور اس کی وجہ سورۃ علق کی یہ آیت بیان کی ہے۔اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ(العلق:۲)۔پس جو لفظ وہاں بیان ہوا ہے وہی یا اس کے ہم معنی لفظ یہاں نکالا جائے گا۔زمخشری نے اِقْرَاْ یا اِشْـرَعْ کی جگہ جو امر کے صیغے ہیں اَقْرَأُ یا اَشْرَعُ جو مضارع کے صیغے ہیں محذوف نکالے ہیں یعنی میں پڑھتا ہوں یا شروع کرتا ہوں۔اور اس کی جگہ بِسْمِ اللّٰہِ کے بعد تجویز کی ہے یعنی میں پڑھتا ہوں اللہ کا نام لےکر کی