تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 17
صرف عربی میں اللّٰہ ایک ذاتی نام ہے جو صرف ایک ہی ہستی کے لئے بولا جاتا ہے اور بطور نام کے بولا جاتا ہے۔اللّٰہ کا لفظ بھی اسم جامد ہے مشتق نہیں۔نہ یہ اور کسی لفظ سے بنا ہے اور نہ اس سے کوئی اور لفظ بنا ہے۔اللہ اسم جامد ہے نہ کہ مشتق بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ لَاہَ یَلِیْہِ سے مشتق ہے جس کے معنی تَسَتُّر، عَلُوّ اور اِرتِفَاع کے ہیں (اقرب) لیکن یہ درست نہیں بعض لوگ کہتے ہیں اللہ لَاہَ یَلُوْہُ سے نکلا ہے جس کے معنی چمکنے کے ہیں اور لَاہَ اللّٰہُ الْخَلْقَ کے معنی ہیں اللہ نے مخلوق پیدا کی۔لیکن لسان العرب میں لکھا ہے کہ یہ معنی غیر معروف ہیں۔پس یہ قیاس کہ یہ لَاہَ یَلُوْہُ سے نکلا ہے بالکل غلط ہے۔بعض لوگ اسے غیر زبان کا لفظ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ سریانی کے لفظ لاھاسے نکلا ہے لیکن یہ بھی بالکل غلط ہے بلکہ سریانی زبان سے ناواقفیت کے نتیجہ میں ہے چنانچہ یورپین محققین کی رائے ہے کہ عربی کا لفظ اِلٰہ ابتدائی مادہ سے زیادہ قریب ہے۔جرمن عالم NOLDEKE لکھتا ہے کہ عربی کا اِلٰہ اور عبرانی کے ایل پرانے زمانہ سے پہلو بہ پہلو چلے آتے ہیں اور عبرانی زبان جب عربی سے علیحدہ ہوئی ہے اس سے بھی پہلے سے یہ لفظ سامی زبانو ںمیں استعمال ہوتا تھا۔(انسائیکلو پیڈیا ببلیکا زیر عنوان نیمز یعنی اسماء کی بحث) اَلرَّحْمٰن رحم سے ہے اور فَعْـلَان کے وزن پر ہے۔اس وزن کے الفاظ امتلاء اور غلبہ پر دلالت کرتے ہیں۔(تفسیر البحر المحیط تفسیر سورۃ الفاتحۃ ) پس رحمٰنکے معنی یہ ہوئے کہ وسیع رحم کا مالک جو ہر اک پر حاوی ہے اور یہ رحم وہی ہو سکتا ہے جو بلا مبادلہ اور بغیر کسی استحقاق کے ہو کیونکہ ہر شخص حق کے طو رپر رحم کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔اَلرَّحِیْم بھی رَحِمَ سے نکلا ہے اور فَعِیْلٌ کے وزن پر ہے جس کے معنوں میں تکرار اور استحقاق کے مطابق سلوک کا مفہوم پایا جاتا ہے۔(تفسیر البحر المحیط تفسیر سورۃ الفاتحۃ) پس اس کے معنی ہوئے جو رحم کے حق دار کو اس کے کام کی اچھی جزا دیتا ہے اور بار بار اس پر رحم نازل کرتا جاتا ہے۔علمِ صَرف کے زبردست امام ابو علی فارسی کہتے ہیں۔اَلرَّحْـمٰنُ اِسْمٌ عَامٌ فِیْ جَمِیْعِ اَنْوَاعِ الرَّحْمَۃِ یُخْتَصُّ بِہِ اللّٰہُ تَعَالٰی وَالرَّحِیْمُ اِنَّمَا ھُوَ فِیْ جِہَۃِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ قَالَ تَعَالٰی کَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا(تفسیرفتح البیان زیر تفسیر سورۃ الفاتحۃ) یعنی اَلرَّحْـمٰن اسم عام ہے اورہر قسم کی رحمتوں پر مشتمل ہے اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے مخصوص ہے اور اَلرَّحِیْم مومنوں کی ذات سے تعلّق رکھتا ہے یعنی اَلرَّحِیْم کی رحمت نیکو کاروں سے مخصوص ہے۔چنانچہ اس کا ثبوت قرآن کریم کی آیت وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا ہے۔(الاحز اب :۴۴) ابن مسعودؓ اور ابو سعید خدریؓ کی روایت ہے کہ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلرَّحْمٰنُ رَحْمٰنُ