تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 208

ملاوٹوں اور وسوسوں سے پاک ہونے کی حالت میں اس کے مقربوں کے کانوں یا آنکھوں یا قلوب پر منکشف کیا جاتا ہے اور جسے الفاظ اور َصوت دی جاتی ہے۔صرف ایک خیال کا نام نہیں ہے جیسے کہ برہمو سماج یا بابی وغیرہ خیال کرتے ہیں۔اس جملہ سے یہ دھوکا نہیںکھانا چاہیے کہ متقی کی تعریف صرف یہ ہے کہ جو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی وحی پر ایمان لائے کیونکہ قرآن کریم سے پہلے زمانہ کے لوگوں میں بھی قرآن کریم متقیوں کا وجود تسلیم کرتا ہے مثلاً فرماتا ہے۔وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِيَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِيْنَ۠(الانبیاء :۹ ۴) یعنی ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرقان دیا تھا اور وہ تعلیم دی تھی جو متقیوں کے لئے روشنی اور شرف کا موجب تھی۔ہر زمانہ کے متقیوں کے لئے ان کے مناسب حال حکم پس جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بھی متقی تھے جبکہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم ظاہر ہوئے تھے اورنہ قرآن کریم اترا تھا تو معلوم ہوا کہ متقی کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی پر ایمان لانا دائمی شرط نہیں بلکہ ایک موقت شرط ہے جس کا وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد شروع ہوتا ہے اور ہونا بھی یہی چاہیے کیونکہ خدا تعالیٰ کے تازہ احکام کو جو نہ مانے وہ متقی کیونکر ہو سکتا ہے؟ غرض موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کے متقیوں کے لئے یہ شرط تھی کہ موسیٰ کی وحی پر ایمان لاتے ہوں حضرت عیسیٰ کے زمانہ میں متقیوں کی یہ علامت تھی عیسیٰ علیہ السلام کی وحی پر ایمان لاتے ہوں اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بعد یہ علامت قرار پائی کہ آپ کی وحی پر ایمان لانے والے ہوں۔حصہ آیت وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَکی تشریح وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ۔پہلی آیت کو شامل کر کے پانچویں اور اس آیت میں بیان کردہ دوسری علامت متقیوں کی یہ بتائی کہ وہ ان وحیو ںپر بھی ایمان لاتے ہیں جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم سے پہلے نازل ہو چکی ہیں۔اللہ اکبر! یہ قرآن کریم کا کیسا شاندار معجزہ ہے کہ ایک اُ ّمی جو اپنی زبان میں بھی پڑھنا لکھنا نہیں جانتا تھا او رپھر عرب قوم کا فرد جو تعصّبِ قومی میں ساری دنیا سے بڑھی ہوئی تھی قرآن کریم سے حکم پا کر اعلان کرتا ہے کہ اسی کلام پر ایمان لانے سے نجات نہ حاصل ہو گی جو مجھ پر نازل ہوا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی ہدایت کے مستحق بننا چاہتے ہو تو جوو حیاں مجھ سے پہلے نازل ہو چکی ہیں اُن پر بھی ایمان لائو۔اسی کی تشریح دوسری جگہ یوں فرماتا ہے۔وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ (فاطر :۲۵)۔قرآن کریم کی پہلے نازل شدہ کتب پر ایمان لانے کی بے نظیر تعلیم کوئی قوم ایسی نہیںگزری جس میں خدا تعالیٰ کا مامور نہ آیا ہو اور فرماتا ہے۔لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ(الرعد :۸) ہر قوم میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہادی