تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 209
گزرا ہے گویا محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم مجمع البحرین ہی نہیں مجمع البحار ہیں جو آپؐ پر ایمان لائے اُس کے لئے ضروری ہے کہ ابتدائی عراقی نبیوں آدم۔نوح اور ابراہیم علیہم السلام پر بھی ایمان لائے اور جو آپؐ پر ایمان لائے وہ یہودی نبیوں موسیٰ، دائود، ادریس، الیاس، ذکریا اور یحییٰ پر بھی ایمان لائے اور جو آپؐ پر ایمان لائے وہ مسیحیت کے بانی عیسیٰ علیہ السلام پر بھی ایمان لائے اور جو آپؐ پر ایمان لائے وہ ہندوستان کے نبیوں کرشن اور رامچندر پر بھی ایمان لائے اور جو آپؐ پر ایمان لائے وہ ایرانی نبی زردشت پر بھی ایمان لائے۔اس سے زیادہ روا داری اور اس سے زیادہ صداقت طلبی کا کیا ثبوت ہے؟ کوئی قومی تعصّب نہیں، کوئی نسلی امتیاز نہیں صرف اور صرف صداقت اور راستی کی طلب ہے جہاں بھی ملے اس کا اقرار، جہاں بھی پوشیدہ ہو اس کا اظہار۔آہ! دنیا کی یہ کس قدر قدر ناشناسی ہے کہ اسی کتاب سے سب سے زیادہ ُبغض اور کینہ کا اظہار کیا جاتا ہے۔کاش دنیا میں انصاف کا مادہ ہوتا کاش لوگ قرآن کریم کے پہلے ہی رکوع کے مطالب پر غور کر کے اس کی نسبت اپنا فیصلہ صادر کرتے!! قرآن مجید کے بائبل کی تصدیق کرنے کا مطلب مسیحی مصنّف جن کی نظر حسن کی جگہ قبح پر پڑنے کی عادی ہو چکی ہے اس آیت کی مذکورہ بالا خوبی پر نظر ڈالنے اور اس کی عظمت اور خوبی تسلیم کرنے کی بجائے الٹا یہ ناجائز فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ قرآن کریم نے بائبل کی تصدیق کی ہے اور چونکہ بائبل کے مضامین قرآن کریم کے خلاف ہیں اس لئے قرآن کریم جھوٹا ہے نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ۔کیسے شاندار مضمون کے موقعہ پر کیسی بھونڈی بات سوجھی ہے! وہ یہ نہیں سمجھتے کہ قرآن بائبل کے کس حصہ کی تصدیق کرتا ہے۔عہد نامہ قدیم کی کہ جس میں شریعت کو روحانیت کے لئے ضروری قرار دیا ہے یا اناجیل کے ان قصوں کی کہ جن میں یہ لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام روزے رکھا کرتے تھے (متی باب۴ آیت ا، ۲) او رلکھا ہے کہ خاص قسم کے جن بغیرروزوں کے نہیں نکلتے (مرقس باب ۹ آیت ۲۹) یا حواریوں کے اقوال کی جن میں یہ لکھا ہے کہ شریعت ایک لعنت ہے۔ان دو متضاد اقوال میں سے وہ کس کی تصدیق کرتا ہے؟ کاش وہ سمجھتے کہ ایک مصلح کو پہلے ادیان کی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں اُسے تو صرف منبع کے بارہ میں اپنے خیال کا اظہار کر دینا کافی ہے کیا دنیا میں صلح کے قائم کرنے اور سچائی جہاں بھی ملے اس کا اقرار کرنے کے لئے یہ اصل کم قیمتی ہے کہ اس امر کا اقرار کیا جائے کہ خدائے قـیّـوم سب اہل زمین کا خدا ہے اور اس کا کلام ہر قوم پر نازل ہوتا رہا ہے اور ایک مومن صادق کو اجمالاً اس پر ایمان رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو بھی اپنی ہدایت سے محروم نہیں رکھا۔اگر تفصیلی معتقدات مختلف اقوام کے تسلیم کرنے صلح کے لئے ضروری ہوں تو یہ اتحاد تو خود مسیحیوں میں بھی پیدا نہیں بیسیوں فرقے ہیں جو ایک دوسرے کے عقیدے کو غلط کہتے ہیں۔رومن کیتھولکس کے نزدیک