تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 207
لفظ نُزُولکا استعمال قرآن مجید میں اور اس کا صحیح مفہوم اس آیت کا صحیح مفہوم نہ سمجھنے کا چوتھا موجب یہ ہے کہ لوگوں نے نُزُول کے معنے غلط سمجھے ہیں۔بے شک نزول کے عام معنے جسمانی طور پر اترنے کے ہیں لیکن یہ لفظ اور معانی میں بھی مستعمل ہے اور قرآن کریم میں کئی اور جگہ دوسرے معنوں میں مستعمل ہوا ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً (آل عمران :۱۵۵) کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر غم کے بعد امن کے سامان اتارے اور اس سے مراد امن کے سامان پیدا کرنا ہے کیونکہ نہ غم آسمان سے اترتا ہے نہ امن ،دونوں زمینی تغیرات سے پیدا ہوتے ہیں۔اسی طرح قرآن کریم میںہے۔وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ (الزمر:۷) اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے آٹھ قسم کے چوپائے اتارے ہیں۔حالانکہ چوپائے آسمان سے اُترا نہیں کرتے بلکہ زمین میں پیدا کئے جاتے ہیں۔اسی طرح قرآن کریم میں ہے۔يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِيْشًا(الاعراف :۲۷) اے بنی آدم! ہم نے تمہارے لئے لباس اتارا ہے جو تمہارے ننگ کو ڈھانکتا ہے اور تمہارے لئے موجبِ زینت ہوتا ہے۔اسی طرح قرآن کریم فرماتا ہے وَ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى (البقرة:۵۸ ) ہم نے تمہارے لئے ترنجبین او ربٹیرے اتارے تھے۔اسی طرح قرآن کریم فرماتا ہے۔وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْهِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ (الحدید :۲۶) ہم نے لوہا اتارا ہے جس میں بہت بڑے جنگ کے سامان مخفی ہیں۔اب ان تمام اشیاء میں سے ایک بھی نہیں جو آسمان سے اترتی ہو بلکہ سب ہی چیزیں زمین میں پیدا کی جاتی ہیں۔خود رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی نسبت قرآن کریم میں آتا ہے کہ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَّسُوْلًا۔(الطلاق :۱۱،۱۲) ہم نے تم پر ایک بڑے شرف کی بات یعنی اپنا رسول اتارا ہے۔کلامِ الٰہی کے اترنے کا مفہوم ادا کرنے کے لئے لفظ نزول کے استعمال میں حکمت اوپر کی تمام آیات سے ثابت ہے کہ نزول کا لفظ پیدا کرنے کے لئے بھی بولا جاتا ہے اور اس جگہ بولا جاتا ہے جبکہ اس چیز کی پیدائش کا ذکر کیا جائے جسے بطور احسان یا انعام کے پیش کیا جائے۔چنانچہ جانوروں کی پیدائش کا ذکر بھی بطور احسان کیا گیا ہے لوہے کی پیدائش کا بھی اور مَنْ و سَلوٰی کی پیدائش کا بھی اور لباس کی پیدائش کا بھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا بھی۔پس ان معنوں کے رو سے کلام الٰہی کے اترنے کے اصل معنے صرف یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام بطور ایک خاص نعمت کے ہوتا ہے اور اس کی ناقدری اور ناشکری کرنا انسان کو خدا تعالیٰ کی نظروں سے گرا دیتا ہے ورنہ یہ مراد نہیں کہ وہ کسی کاغذ پر لکھا ہوا آسمان سے اترتا ہے بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کا ایک خاص اذن ہے جو تمام