تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 206

دوسری وجہ جس سے لوگوں نے دھوکا کھایا ہے وہ فرشتوں کے متعلق اور ان کے اعمال کے ظہور کے متعلق اُن کا ناقص علم ہے قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے مادی اجسام نہیں ہیں بلکہ تمام کائنات عالم کے لئے علت ِ ثانیہ کا مقام رکھتے ہیں یعنی خدا تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے درمیان پہلے واسطہ کی حیثیت ان کو حاصل ہے اور نظام عالم کا خدا تعالیٰ کے حکم اور اس کے اشارہ کے مطابق چلانا ان کا کام ہے۔کوئی فرشتہ کلام الٰہی کو بندہ تک پہنچانے کا ذمہ دار ہے۔کوئی پیدائش کا کارخانہ چلا رہا ہے‘ کسی کے ذمہ موت کا کام ہے اور وہ گویا بمنزلہ تاروں کے ہے جن کے ذریعہ سے دنیا کے کار خانہ کو خدا تعالیٰ حرکت دیتا ہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اُن کی زبان سے فرماتا ہے وَ مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ (الصّٰفّٰت :۱۶۵) ہم میں سے ہر ایک کا ایک معلوم مقام ہے یعنی ہر ایک اپنے مقام پررہتے ہوئے اُسی طرح اپنا کام کر رہا ہے جس طرح کہ سورج اپنی جگہ پر رہتے ہوئے اپنے گرد کے سیاروں تک روشنی پہنچاتا ہے اور انہیں اس کی ضرورت نہیں کہ وہ اپنی جگہ کو چھوڑیں پس جب فرشتوں کا اترنا ایک استعارہ ہے تو اس کلام کا اترنا بھی جو اُن کے ذریعہ سے واقع ہوتا ہے ایک استعارہ ہے۔تیسری وجہ غلطی لگنے کی یہ ہے کہ لوگوں نے یہ غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کس طرح ظاہر ہوتے ہیں؟ جاہل لوگ خیال کرتے ہیں کہ جس طرح انسان کو ضرورت ہوتی ہے کہ اپنا کلام پہنچانے کے لئے وہ مادی وسائل کو اختیار کرتا ہے مثلاً کسی پیغامبر کو سواری دے کر اپنے مخاطب کی طرف بھجواتا ہے اسی طرح نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ بھی اس امر کا محتاج ہے کہ اپنا پیغام لکھ کر کسی پیغامبر کو دے اوروہ اس کے اُس بندے تک چل کر آئے جس تک پیغام بھجوایا گیا تھا حالانکہ اللہ تعالیٰ تو اپنے کامو ںکے متعلق صاف فرماتا ہے کہ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ (البقرہ : ۱۱۸) یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو اُسے اس امر کی ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ انسانوں کی طرح حرکت کرے اور اس کام کے کرنے کے لئے چل کر جائے بلکہ وہ صرف یہ ارادہ کر لیتا ہے کہ ایسا ہو جائے پھر اسی طرح ہو جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے کلام بھجوانے کے صرف یہ معنے ہیںکہ وہ اس کا ارادہ کر لیتا ہے اور اس ارادہ الٰہی سے آپ ہی آپ کلام الٰہی کے نزول کا ذمہ وار فرشتہ واقف ہو جاتا ہے پھر وہ اس حکم کی تعمیل کے لیے کائنات کی متعلقہ زنجیروں کو کھینچتاہے اور خود بخود ایک لطیف اور پر معارف کلام اللہ تعالیٰ کے اس بندہ کے کانوں یا دل یا آنکھوں پر نازل ہو جاتا ہے جس تک خدا تعالیٰ کا منشاء پہنچانا مطلوب ہوتا ہے ورنہ یہ ہرگز مراد نہیں کہ خدا تعالیٰ کے ہونٹ ہیں اور زبان ہے اور حلق اور تالو ہے کہ وہ ان کو حرکت دے کر کوئی آواز پیدا کرتا ہے یا انسانوں کی طرح کے ہاتھ ہیں کہ وہ ان سے لکھ کر فرشتوں کو دیتا ہے اور وہ اسے رسول تک پہنچا دیتے ہیں۔