تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 205

اترتا رہا۔اب جو چیز ہمیشہ دائود پر اترتی رہی اور اس کا ذکر بائبل میں موجود ہے کس طرح تسلیم کیا جائے کہ مسیحی مصنفین اس کے مفہوم کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔کلامِ الٰہی کے آسمان سے اترنے کا ذکر انجیل میں نئے عہد نامہ میں بھی اسی قسم کا محاورہ استعمال ہوا ہے۔اس میں آتا ہے ’’اور یوحنا نے یہ کہہ کے گواہی دی کہ میں نے روح کو کبوتر کی طرح آسمان سے اترتے دیکھا اور وہ اس پر ٹھہری اور میں اسے نہ جانتا تھا پر جس نے مجھے بھیجا کہ پانی سے بپتسمہ دوں اس نے مجھے کہا کہ جس پر تو روح کو اترتے اور ٹھہرتے دیکھے وہی ہے جو روح قدس سے بپتسمہ دیتا ہے سو میں نے دیکھا اور گواہی دی کہ یہی خدا کا بیٹا ہے۔‘‘ (یوحناباب ۱آیت ۳۲ تا ۳۴) ان آیات سے ظاہر ہے کہ روح القدس جسے قرآنی اصطلاح میں کلام لانے والا فرشتہ یاجبرئیل کہتے ہیں کبوتر کی شکل میں حضرت مسیح ؑپر اترا جیسا کہ عہد نامہ جدید کے متعدد حوالہ جات سے ثابت ہے یہ روح قدس ہی ہے جو خدا کا کلام پہنچاتی ہے پس اس کبوتر نے اُتر کر مسیح پر خدا تعالیٰ کی مرضی ہی کھولی ہو گی چنانچہ متی باب ۳ آیت ۱۶ سے اس کی وضاحت بھی ہو جاتی ہے کیونکہ وہاں لکھا ہے کہ ’’اس نے (یعنی مسیح علیہ السلام) نے خدا کی روح کو کبوتر کی مانند اترتے اور اپنے اوپر آتے دیکھا‘‘ غرض خدا کی روح سے خدا تعالیٰ کا کلام ہی مراد ہے۔پس جبکہ عہد نامہ قدیم او رجدید دونوں خدا تعالیٰ اور اس کے کلام کے اترنے پر شاہد ہیں تو اس قسم کی روایات اگر مسلمانوں میں پائی جائیں تو مسیحیوں کو ان کے سمجھنے میں کیوں دِ ّقت پیش آئے؟ کلام الٰہی کے آسمان پر سے اترنے کا غلط مطلب سمجھنے کی چار وجوہات اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم میں سَـمَآءٌ کا لفظ مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔کبھی اس کے معنے بادلوں کے ہوتے ہیں کبھی بلندی کے اور کبھی بلندیٔ مقام کے جب اللہ تعالیٰ کی نسبت یہ لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنی اس کے بلند مقام کے ہوتے ہیں نہ یہ کہ وہ کسی خاص مقام پر انسانوں کی طرح بیٹھا ہے جس ہستی کی نسبت قرآن کریم خود فرماتا ہے وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ (قٓ :۱۷) وہ انسان کی رگِ جان سے بھی زیادہ اس کے قریب ہے اس کی نسبت یہ خیال کرنا کہ وہ ایک جسمانی آسمان پر بیٹھا ہے اور وہاں سے لکھ لکھ کر اپنا کلام بھجوا رہا ہے کس طرح درست ہو سکتا ہے؟ عام مسلمانو ںکو بھی یہ ٹھوکر لگی ہے اور انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی ان صفات پر جو قرآن کریم میں مذکور ہیں غور کئے بغیر ذوالوجوہ روایات اور متشابہ آیات سے دھوکا کھایا ہے۔