تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 204
لفظ نُزُول کے معنی مادی طور پر کسی کلام کے آسمان پر سے اترنے کےنہیں اوّل سوال یہ ہے کہ کیا نزول کے یہ معنے ہیں کہ کلامِ الٰہی آسمان سے مادی طور پر نازل ہوتا ہے جیسا کہ عوام مسلمانوں میں اور اُن سے سن سنا کر دوسرے مذاہب کے لوگوں میں پھیلا ہوا ہے؟ چنانچہ سیل مترجم قرآن انگریزی نے اپنے ترجمہ کے دیباچہ کے باب ۳ میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام قرآن کریم ایک جلد میں جبریل فرشتہ کو دیا اور وہ اسے نچلے آسمان پر لے آئے اور یہاں سے آہستہ آہستہ انہو ںنے قرآن کریم حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اُتارا۔(تفسیر ریورنڈ ویری جلد اول صفحہ ۱۰۸) اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض ایسی روایات کی بناء پر جو مسلمانوں میں بدقسمتی سے مشہور ہو گئی ہیں لیکن اُن کے معنوں پر انہوں نے غور نہیں کیا اور نہ ان کی صحت کی تصدیق کی مسیحیوں نے اس قسم کی تاریخ کی بنیاد رکھی ہے اور اس وجہ سے ہم ان پر یہ الزام تو نہیں لگا سکتے کہ انہوں نے یہ روایات خود بنا لی ہیں لیکن جس رنگ میں اُنہوں نے ان روایات کو استعمال کیا ہے وہ ضرور قابل اعتراض ہے نیز وہ اس اعتراض کے نیچے ضرور ہیں کہ جن امور پر وہ اعتراض کرتے ہیں اسی قسم کے امور خود ان کی کتب میں موجود ہیں۔جو تاویل وہ اپنی کتب میں کر لیتے ہیں دیانت اور تقویٰ کا تقاضا یہ تھا کہ ایسی روایات یا اُن قرآن کریم کی آیات کے متعلق جن میں انہیں کوئی ایسا مضمون نظر آتا وہ ویسی ہی تاویل کر لیتے مذہب تو خشیت اللہ اور تقویٰ پیدا کرنے کے لیے ہوتا ہے نہ کہ ہارجیت کا اکھاڑہ بنانے کے لئے۔کلامِ الٰہی کے آسمان سے اترنے کے محاورہ کا استعمال تورات میں موسیٰ کی کتاب پیدائش میں لکھا ہے کہ جب سدوم اور عمورہ میں گناہ بڑھ گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی تباہی کی خبر دی تو وہ حضرت ابراہیم ؑ سے یوں گویا ہوا ’’میں اب اُتر کے دیکھوں گا کہ انہوں نے سراسر اس چلانے کے مطابق جو مجھ تک پہنچا، کیا ہے یا نہیں‘‘ (پیدائش باب ۱۸ آیت ۲۱) اس آیت سے نہ صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم کامل نہیں اور وہ دوسروں سے خبریں سن کر ان کی تصدیق بعد میں کرتا ہے بلکہ یہ بھی کہ وہ اس تصدیق کے لئے آپ آسمان سے اترنے پر مجبور ہوتا ہے۔اب اگر ان مسیحی مصنّفین میں حقیقی دینی روح ہوتی اور وہ مذہب کو ایک جیت ہار کا اکھاڑہ نہ سمجھتے تو اس آیت کی موجودگی میں انہیں قرآن کریم کے اس مضمون پر کیونکر اعتراض ہو سکتا تھا کہ کلامِ الٰہی آسمان سے اُترتا ہے؟ اس مضمون کے مطابق جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے عہد نامہ قدیم کی کتاب ا۔سموئیل میں بھی ذکر آتا ہے وہاں لکھا ہے ’’اور خداوند کی روح اس دن سے ہمیشہ دائود پر اُترتی رہی‘‘ (ا۔سموئیل باب ۱۶ آیت ۱۳) خدا کی روح کے معنے اس کے کلام اور اس کی ہدایت کے ہی ہیں۔پس اس آیت میں یہی بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام دائود پر