تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 188

فَلْیُطِعْہُ وَمَنْ نَذَرَ اَنْ یَعْصِیَہٗ فَـلَایَعْصِہٖ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو ایسی نذر مانے جس میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہوتی ہو تو اسے پورا کرے اور جو ایسی نذر مانے جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہو تو وہ نذر کو پورا کرکے نافرمانی نہ کرے۔(بخاری کتاب النذور باب النذر فی الطاعۃ) قومی ضروریات کے لئے خرچ کرنے کا حکم (۳) تیسری قسم خرچ کی جو قرآن کریم سے ثابت ہوتی ہے وہ اخراجات ہیں جو قومی اور ملی ضرورتوں کے مواقع پر اچھے اور نیک افراد کرتے ہیں۔یہ اخراجات صدقہ نہیں کہلا سکتے کیونکہ ان سے مساکین کی ضرورتیں پوری نہیں کی جاتیں بلکہ غریب و امیر ان سے متمتع ہوتے ہیں اور بعض دفعہ ساری قوم ان سے فائدہ اٹھاتی ہے جیسے گھر سے خرچ کر کے جہاد کے لئے جانا یا دوسرے کسی سپاہی کے اخراجات مہیا کرنا کہ وہ خرچ اس سپاہی پر نہیں ہوتا بلکہ قوم پر ہوتا ہے کیونکہ کوئی شخص اس لئے سواری طلب نہیں کرتا کہ تامیدانِ جنگ میں جا کر جان دے یا پانچ دس دن کے لئے روٹی نہیں مانگتا کہ اتنے دنوں میں اپنی موت کا سامان کرے پس اگر سپاہی کو ا ّیام جنگ کے لئے کھانا مہیا کر دیا جائے یا اس کے لئے سواری مہیا کر کے دی جائے تو یہ قومی خرچ ہے فرد کی امداد نہیں کیونکہ جنگ اس شخص کا ذاتی کام نہیں بلکہ ملت کے فائدہ کا کام ہے۔قومی اخراجات پر خرچ کرنے کا حکم اسلام نے ان اخراجات پر بھی زور دیا ہے اور یہ حکم زکوٰۃ و صدقہ سے الگ ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (التوبة :۴۱) کہ اگر ہلکے پھلکے ہو یعنی سواری مہیا ہے یا گھر کا انتظام مکمل ہے تب بھی جہاد کے لئے گھروں سے نکلو اور اگر بوجھل ہو یعنی خود بوجھ اٹھا کر جانا پڑے سواری نہ ہو یا پیچھے گھر کا کوئی انتظام نہ ہو تب بھی جہاد کے لئے گھروں سے باہر نکلو اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرو یہ تمہارے لئے اگر تم جانو تو بہتر ہو گا۔اس آیت میں جو جان و مال کے خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ضروری نہیں کہ دوسروں پر خرچ کیا جائے۔جو شخص صرف اپنے لئے سواری مہیا کرتا ہے تاکہ جہاد میں شامل ہوسکے یا اپنے لئے تلوار خریدتا ہے تاجہاد میں شریک ہو سکے یا اپنے لئے کچھ غلّہ خریدتا ہے تاجہاد کے دنوں اُسے کھا کر گزارہ کر سکے وہ ہر ایک چیز اپنے لئے خریدتا ہے۔پس یہ معروف صدقہ نہیں کہلا سکتا کیونکہ اس کا فائدہ وہ خود اٹھاتا ہے۔مگر چونکہ یہ خرچ جو اس نے اپنے نفس پر کیا اپنے کسی شوق کو پورا کرنے کے لئے نہیں کیا بلکہ دین و ملت کی خدمت کےلئے کیا اور ایسی حالت میں کیا کہ بجائے لذت کا سامان مہیا کرنے کے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالا۔یہ خرچ خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق خرچ ہے اور ثوابِ عظیم کا