تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 189

مستحق اس شخص کو بناتا ہے۔اشاعت اسلام یا نظام جماعت کی مضبوطی کیلئے خرچ اسی طرح اگر جہاد کی غرض سے یا کسی قومی خدمت کےلئے جو براہ راست اس سے متعلق نہیں۔کوئی شخص کسی بھائی کی امداد کرتا ہے تو اس کا وہ خرچ بھی صدقہ نہیں۔کیونکہ اس خرچ سے دوسرے بھائی کی ذاتی ضرورت پوری نہیں کی گئی بلکہ اس کے بدلہ میں اس سے ایک قومی کام لیا گیا ہے۔سو یہ تیسری قسم کا خرچ ہے جو نہ زکوٰۃ ہے نہ صدقہ مگر ہے نہایت ضروری۔اور انسان کو بہت بڑے ثواب کا مستحق بنتا ہے۔آج کل تلوار کا جہاد تو ہے نہیں۔پس اشاعت اسلام یا تعلیم یا نظام جماعت کی مضبوطی اور اسی قسم کے دوسرے کاموں کے لئے جو رقوم دی جاتی ہیں وہ اسی مد میں شامل ہیں۔اور جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ کے حکم کے پہلے نصف کے پورا کرنے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔مگر دوسرا نصف اسی صورت میں پورا ہو سکتا ہے کہ مال خرچ کرنے کے علاوہ کبھی کبھی اپنے کاموں کا حرج کر کے خود بھی کچھ دن تبلیغ کے لئے دے۔یا ملی ترقی کی غرض سے تعلیم و تربیت کے کام میں حصہ لے۔شکرانہ کے طور پر خرچ کرنے کا حکم (۴) چوتھی قسم خرچ کی جسے اسلام نے پسند کیا ہے اور اس کا حکم دیا ہے وہ خرچ ہے جو بطور شکرانہ کیا جاتا ہے۔اس میں اور صدقہ میں یہ فر ق ہے کہ صدقہ تو کسی مصیبت کے دور کرنے یا کسی مقصد کے حصول کے لئے کیا جاتا ہے مگر شکرانہ کا خرچ حصول مقصد کے بعد یا بلا کے دُور ہونے پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔قرآن کریم میں اس کا ذکر مندرجہ ذیل آیت میں ہے۔كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ (الانعام :۱۴۲) یعنی جو پھل یا غلّہ خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اس میں سے کھائو۔اور جس وقت اس پھل یا غلہ کو کاٹو اس وقت خدا تعالیٰ کا حق بھی ادا کرو۔یا یہ کہ اس غلّہ یا پھل کو کاٹ کر اپنے قبضہ میں لانے کا حق بھی ادا کرو یعنی کچھ حصہ خدا تعالیٰ کی راہ میں بطور شکر تقسیم کرو۔بعض لوگوں نے اس کے معنے زکوٰۃ کے کئے ہیں اور بعض نے اس حکم کو زکوٰۃ سے منسوخ قرار دیا ہے۔مگر حق یہی ہے جیسا کہ اس آیت کے موقع پر لکھا جائے گا کہ نہ اس جگہ زکوٰۃ کا حکم ہے اورنہ یہ حکم زکوٰۃ سے منسوخ ہے بلکہ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہو اور تمہاری محنت ٹھکانے لگے تو اس شکریہ میں کہ خدا تعالیٰ نے تم کو اس قابل بنایا اللہ تعالیٰ کے غریب بندوں کو بھی اس میں سے کچھ حصہ دو۔اس حکم پر بھی مسلمانوں میں بہت کم عمل رہ گیا ہے حالانکہ یہ خرچ ایسا طبعی خرچ ہے کہ اسے بھولنا نہیں چاہیے۔اورہر کامیابی پر خدا تعالیٰ کی راہ میں کچھ نہ کچھ بطور شکرانہ خرچ کرنا چاہیے۔کیونکہ یہ کامیابی پر الحمد للہ کہنے کا ایک عملی نمونہ ہے۔