تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 187

جو غور کرنے کے عادی نہیں انہیں خوشحال سمجھ لیتے ہیں حالانکہ تو اگر دیکھے تو ان کو ان کے چہروںسے پہچان لے گا وہ لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتے۔اس آخری فقرہ سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہیے کہ وہ نرمی سے مانگ لیتے ہیں کیونکہ اوپر بیان ہو چکا ہے کہ وہ سوال کرتے ہی نہیں پس چمٹ کر نہیں مانگتے سے یہ مراد ہے کہ وہ اپنی غربت کو چھپانے کے لئے امراء کا سایہ بننے سے بھی گریز کرتے ہیں اور اس طرح سوال مجسم ہو کر انسان لوگوں سے جو فائدہ اٹھا سکتا ہے اس سے بھی محروم رہتے ہیں ایسے لوگوں پر خرچ کرنے پر قرآن کریم نے خاص زور دیا ہے۔محروم کے دوسرے معنے یہ بھی ہیں کہ وہ سوال کر ہی نہ سکتے ہوں سو ان معنوں کے روسے اس میں وہ لوگ شامل ہوں گے جو مثلاً گونگے، بہرے ہیں یا پردہ دار عورتیں ہیں یا چھوٹے بچے ہیں یا پھر جانور ہیں کہ زبان ان کو قدرت نے عطا ہی نہیں کی۔ان سب پر خرچ کرنا بھی صدقہ کی اقسام میں شامل ہے۔قرآن کریم سے ثابت ہے کہ صدقہ رد بلا کے لئے مفید ہوتا ہے او راسلام آفات اور مصائب کے وقت اس قسم کے صدقات کی تحریک متواتر کرتا ہے۔نذر اور اس کا حکم صدقہ میں وہ تمام اخراجات شامل ہیں جو ردِّ بلا کی غرض سے او رمصیبت کے وقت میں یا مصیبتوں کو دُور رکھنے کے لئے اور خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کے لئے کئے جاتے ہیں۔اسی کی ایک قسم کو نذر کہتے ہیں۔اس میں اور عام صدقہ میں یہ فرق ہے کہ عام صدقہ تو اس خرچ کو کہتے ہیں جو ردِّ بلاء کی امید میں کیا جاتا ہے اور نذر اس صدقہ کو کہتے ہیں جس کا وعدہ اس صورت میں کیا جائے کہ اگر فلاں مشکل دُور ہو جائے یا فلاں کام ہو جائے تو یہ خرچ کروں گا یا فلاں عبادت بجا لائوں گا۔اس کا ذکر سورۂ دھر رکوع اوّل میں ہے جہاں فرماتا ہے۔يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ (الدھر:۸) مومن نذر کو پورا کرتے ہیں یعنی جب کسی خیرات یا نیک عمل کا عہد کرتے ہیں کہ ردِّعمل یا حصول مقصود کے بعد کریں گے تو اس عہد کو پورا کرتے ہیں۔صلحاء امت میں سے جو بڑے پایہ کے صلحاء گزرے ہیں ان کا خیال ہے کہ گو نذر کا پورا کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ ایک عہد ہے جو بندہ خدا تعالیٰ سے کرتا ہے لیکن اس طرح عہد کرنے سے کہ اگر خدا تعالیٰ فلاں مصیبت کو ٹلا دے تو اس اس قدر صدقہ کروںگا یہ بہتر ہے کہ پہلے ہی صدقہ کر کے اللہ تعالیٰ پر تو کل کر لے بجائے اس کے کہ خدا تعالیٰ سے سودا کرنے کی کوشش کرے اور یہ خیال ان کا درست اور صحیح ہے۔امام بخاری نے امام مالک کے واسطہ سے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ہے۔قَالَ : مَنْ نَذَرَ اَنْ یُّطِیْعَ اللّٰہَ