تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 179

اس آیت میں غریبوں کا تو کیا ذکر ہے یہ بھی کوئی حد بندی نہیں کہ غیروں کو دیتے ہیں نہ یہ کہ اپنے عزیزوں کو دیتے ہیں اور نہ یہ کہ اپنی ذات پر خرچ کرتے ہیں۔پس جہاں تک اس آیت کا تعلق ہے وہ شخص ہی اس آیت پر عمل نہیںکرتا جو اپنے مال میں سے کچھ غریبوں کو دیتا ہو بلکہ اس آیت کے مفہوم کے مطابق وہ باپ جو اپنی اولاد پر خرچ کرتا ہے اور وہ ماں جو اپنے بچہ کو دودھ پلاتی ہے او روہ خاوند جو اپنی بیوی کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے اور وہ اولاد جو اپنے ماں باپ کا خیال رکھتی ہے سب ہی اس آیت کے احکام میں سے بعض احکام کو پورا کرتے ہیں کیونکہ اس آیت کے مفہوم میں ان سب لوگوں پر خرچ کرنا شامل ہے بلکہ اس آیت کے مفہوم میں وہ خرچ بھی شامل ہے جو ایک شخص خود اپنی ذات پر کرتا ہے۔آیت وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ میں اپنے نفس پر خرچ کرنے کا حکم وہ شخص جو اپنے نفس کو اس کی ضرورت کے مطابق کھانا کھلاتا ہے اس آیت کے مفہوم کے ایک حصہ کو پورا کرنے والا ہے۔وہ شخص جو اپنے جسم کے لئے ضرورت کے مطابق کپڑا بناتا ہے اس آیت کے مفہوم کو پورا کرنے والا ہے۔ہر وہ شخص جو اپنے نفس کے بارہ میں بخل سے کام لیتا ہے اور ضرورت اور صحت کے مطابق کھانا نہیں کھاتا وہ اس حکم کو توڑنے والا ہے خواہ وہ دوسروں پر کس قدر ہی کیوں نہ خرچ کرے کیونکہ یہ آیت یہ نہیں کہتی کہ غریبوں پر خرچ کرو بلکہ یہ آیت خرچ کرنے کے مقام کو بلا تعیین چھوڑکر خود انسان کے نفس کو بھی اس میں شامل کرتی ہے اور اس کی بیوی کو بھی اور اس کے بچے کو بھی اور اس کے دوستوں کو بھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سے اس آیت کے اس مفہوم کی خوب تشریح ہوتی ہے آپؐ کے پاس ایک دفعہ ایک شخص کی شکایت کی گئی جو ہر روز روزہ رکھتا تھا، رات بھر عبادت کرتا تھا اور اپنے بیوی بچوں کی طرف سے غافل تھا اس پر آپؐ نے فرمایا اِنَّ لِنَفْسِکَ عَلَیْکَ حَقًّا وَلِرَبِّکَ عَلَیْکَ حَقًّا وَ لِضَیْفِکَ عَلَیْکَ حَقًّا وَاِنَّ لِاَھْلِکَ عَلَیْکَ حَقًّا فَاعْطِ کُلَّ ذِیْ حَقٍّ حَقَّہٗ یعنی تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے تیرے رب کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی اور بچوں کا بھی تجھ پر حق ہے پس ہر حق والے کو اس کا حق دے او رکسی کو محروم نہ کر۔(ترمذی ابواب الزھد باب فی أعطاء حقوق النفس والربّ والضّیف والأھل) آیت ھٰذا میں تمام اقسام رہبانیت کا ردّ اس آیت نے ان تمام اقسام رہبانیت کو جن میں گندہ رہنے، بھوکا رہنے، اپنے عزیز رشتہ داروں کے حقوق سے غافل رہنے کا نام نیکی قرار دیا گیا ہے ردّ کر دیا ہے کیونکہ اسلام کے نزدیک متقی وہ ہے جو ان سب چیزوں کو خرچ کرے جو اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی ہیں اور اس کی عطا اس کے