تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 178
تمہاری ضرورتوں کے مطابق دیا ہے اُسے خرچ کرو یہ ضرورت کے مطابق ملنے والی چیز علم بھی ہو سکتا ہے عقل بھی جرأت بھی غیرت بھی وفا بھی ہاتھ پائوں کی خدمت بھی آنکھ ناک کی خدمت بھی روپیہ پیسہ کی خدمت بھی۔غرض کوئی چیز جس کی نسبت کہا جا سکے کہ خدا تعالیٰ نے دی ہے اور کسی ضرورت کے پورا کرنے کے لئے دی ہے اس کے خرچ کرنے کاحکم ہے اور اگر کوئی شخص ایسا ہو کہ روپیہ تو دوسروں کو امداد کے طورپر دیتا ہو لیکن مثلاً کھانا نہ دیتا ہویا کھانا دیتا ہو کپڑا نہ دیتا ہو، یا کپڑا تو دیتا ہو لیکن مکان نہ دیتا ہو یا مکان تود یتا ہو مگر اپنے ہاتھوں سے خدمت نہ کرتا ہو یا ہاتھوں سے خدمت تو کرتا ہو مگر اپنے علم سے لوگوں کو فائدہ نہ پہنچاتا ہو تو وہ اس آیت پر پوری طرح عامل نہ سمجھا جائے گا اور اسی طرح اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہی اس آیت پر عامل نہیں جو غریبوں کو روپیہ دیتا ہے بلکہ وہ بھی عامل ہے جو لوگو ںکو علم پڑھاتا ہے اور وہ بھی عامل ہے جو مثلاً بیوائوں یتیموں کے کام کر دیتا ہے اور وہ سپاہی بھی عامل ہے جو میدانِ جنگ میں ملک کی خاطر جان دینے کی ّنیت سے جاتا ہے اور وہ موجد بھی عامل ہے جو رات دن کی محنت سے دنیا کے فائدہ کے لئے کوئی ایجاد کرتا ہے۔اس آیت پر غور کرنے والے لوگ ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کی ہر طاقت اور اُن کے قبضہ کا ہرسامان ایک حد تک دوسروں کے کام آئے۔ان فقہا نے اسلام کی ایک بڑی صداقت کو پا لیا جنہوںنے یہ فیصلہ کیا کہ عورت کا وہ زیور جو پہنا جائے اور کبھی کبھی دوسری غریب عورتوں کو پہننے کے لئے دے دیا جائے اس پر زکوٰۃ نہیں۔یہ ایک نہایت سچی بات ہے کیونکہ زکوٰۃ مال کو پاک کرنے کے لئے ہے او رجو مال خرچ ہو رہا ہو وہ جاری پانی کی طرح ہے اور کوئی چیز اسے گندہ نہیں کر سکتی۔جو مال آج ایک کو فائدہ دے رہا ہے کل دوسرے کو وہ بہتے چشمے کی طرح ہے جس کا پانی اس وقت یہاں ہوتا ہے تو دوسرے منٹ آگے۔اسی لئے اسلام نے زمینداری، تجارت وغیرہ سے منع نہیں کیا لیکن روپیہ یا سونا، چاندی جمع کرنے سے منع کیا ہے کیونکہ زمینداری، تجارت وغیرہ سے زمیندار یا تاجر کے علاوہ دوسرے لوگ بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کا سرمایہ بھی ایک طرح خرچ ہو رہا ہوتا ہے مگر جو روپیہ جمع پڑا رہے وہ چونکہ دوسروں کے کام نہیں آتا اسے گناہ کا موجب قرار دیا اور یہاں تک فرما دیا کہ اُس مال کو گرم کر کے اُن کے جمع کرنے والوں کے ماتھوں پر داغ لگائے جائیںگے (التوبة آیت ۳۴)۔آیت ھٰذا میں مقام خرچ کی تعیین نہیں دوسری شق خرچ کرنے کے مقام کی ہے۔اس آیت میں یہ کوئی ذکر نہیں کہ جو چیز خرچ کی جائے وہ کس پر خرچ کی جائے۔اس آیت میں کوئی لفظ غریب یا مسکین کا نہیں بلکہ محض یہ ہے کہ وہ اس عطیہ کو جو ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے دیا گیا ہے خرچ کرتے ہیں۔