تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 180

نفس کے لئے بھی ہو اور اس کے عزیزوں کے لئے بھی اور اس کے دوستوں کےلئے بھی ہو اور اس کے ہمسائیوں کے لئے بھی ہو اور غریبوں کے لئے بھی ہو اور امیروں کے لئے بھی ہو اور جان پہچان والے لوگوں کے لئے بھی ہو اور اجنبیوں کے لئے بھی ہو اور ہم وطنو ںکےلئے بھی ہو اور دُور سے آئے ہوئے مسافروں کے لئے بھی ہو اور انسانوں کے لئے بھی ہو اور حیوانوں کے لئے بھی ہو کیونکہ وہ حکم دیتا ہے کہ ہر نعمت سے خرچ کرو اور ہر ضروری مقام پر خرچ کرو۔خرچ کرنے میں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم اس آیت سے یہ بھی استدلال ہوتا ہے کہ خدا کے دیئے ہوئے میں سے کچھ حصہ خرچ کرنے کا حکم ہے نہ یہ کہ سب ہی خرچ کر دے۔قرآن کریم کی دوسری آیات اس امر کی وضاحت کرتی ہیں کہ اس طرح اپنے مال کو خرچ کرنا کہ اس کے پاس اپنے گزارہ کا سامان ہی ختم ہو جائے ناجائز ہے چنانچہ فرماتا ہے۔وَ لَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا (بنی اسرائیل :۰ ۳) یعنی نہ تو اپنے ہاتھوں کو اپنی گردن سے باندھ دے کہ خدا کی نعمتوں کا خرچ بالکل روک دے اور نہ ہاتھ ایسا کھول کہ سب مال ضائع ہو جائے اور لوگ تجھ کو ملامت کریں اور تو آئندہ مال کمانے کے سامانوں سے محروم رہ جائے مَـحْسُوْراُ سے کہتے ہیں جس کی طاقت ضائع ہو جائے اور اس کی کمزوری ظاہر ہو جائے اور اس آیت میں اُس شخص سے مراد ہے جو آئندہ کی ترقی کے سامانوں سے محروم ہو جائے۔علم اور فہم میں سے کچھ خرچ کرنے کا حکم اس جگہ یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ تمام مال کا خرچ تو بُرا کہلا سکتا ہے مگر اس آیت میں تو علم اور فہم وغیرہ کے اخراجات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ان چیزوں میں سے کچھ خرچ کرنے کے کیا معنے ہیں۔کیا انسان اپنا سارا علم لوگوں کو نہ سکھائے یا اپنی عقل سے پوری طرح لوگو ںکو فائدہ نہ پہنچائے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ علم اور فہم اور عقل خرچ کرنے سے بڑھتے ہیں پس ان میں سے کچھ خرچ کرنے کے یہ معنی ہیں کہ اس طرح علم سے لوگوں کو فائدہ نہ پہنچائے یا فہم سے یا عقل سے کہ ان کے بڑھنے کا منبع خراب ہو جائے مثلاً یہ ہلاک ہو جائے یا اس کی صحت ایسی طرح بگڑ جائے کہ اس کا علم یا فہم یا عقل کام دینے سے رُک جائیں مثلاً دماغ خراب ہو جائے۔غرض علم اور فہم اور عقل کا بھی اسی قدر استعمال ہونا چاہیے کہ اُن کا چشمہ نہ سوکھ جائے کیونکہ جو شخص اپنے علم اور عقل سے لوگوں کو اس طرح فائدہ پہنچاتا ہے یا اپنے آپ کو اس طرح فائدہ پہنچاتا ہے کہ ان کے منبع میں خرابی واقع ہو جاتی ہے وہ اس آیت کے حکم کے خلاف عمل کرتا ہے۔خدا کی راہ میں سار امال خرچ کرنا اگر کہا جائے کہ کیا سارا مال خدا کی راہ میں خرچ کرنے والا گنہگار ہو گا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح علم اور فہم اور عقل کا منبع ہوتا ہے اور وہ اس کا رأس المال ہوتا ہے اسی طرح مال کا بھی