تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 162
بد روح سے جو تیری درگاہ سے دور کی گئی ہے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ اس کا اثر مجھ پر نہ ہو اور میں تیری درگاہ سے دور ہونے والوں میں شامل نہ ہو جائوں۔پھر وہ سورۂ فاتحہ پڑھتا ہے (نسائی کتاب الافتتاح باب البداء ۃ بفاتحۃ الکتاب قبل السورۃ و ایجاب قراء ۃ فاتحۃ الکتاب) اس کے بعد وہ قرآن کریم کی کوئی سورۃ یا کم سے کم کسی سورۃ کا اتنا حصہ جو تین آیات پر مشتمل ہو پڑھتا ہے او رپھر اَللّٰہُ اَ کْبَرْ کہہ کر رکوع میں چلا جاتا ہے۔رکوع اور اس کی دعا (رکوع اسے کہتے ہیں کہ انسان اس طرح کمر سیدھی کرے کہ اس کا سر اور لاتوں کا اوپر کا حصہ ایک دوسرے کے متوازی ہو جائیں) ُجھک جاتا ہے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھ لیتا ہے اور لاتیں بالکل سیدھی رکھتا ہے ان میں خم پیدا نہیں ہونے دیتا۔(نسائی کتاب افتتاح الصلٰوۃ باب الاعتدال فی الرکوع) پھر اس حالت میں وہ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم کا فقرہ کہتا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ میرا رب جو اپنی شان کی وسعت میں سب سے بڑھ کر ہے تمام نقائص سے پاک ہے۔یہ فقرہ کم سے کم تین بار یا اس سے زیادہ طاق عدد میں وہ دُہراتا ہے۔(ترمذی ابواب الصلٰوۃ باب ماجاء فی التسبیح فی الرکوع) رکوع سے کھڑا ہونے کی دعا پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہہ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔اس فقرہ کے یہ معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہر اس شخص کی د عا کو سنتا ہے جو سچے دل سے اس کی تعریف بیان کرتا ہے۔اس کے بعد وہ پوری طرح کھڑا ہو کر ہاتھ سیدھے چھوڑ کر یہ دعا مانگتا ہے کہ رَبَّنَا وَ لَکَ الْـحَمْدُ حَـمْدً اکَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ (نسائی کتاب التطبیق باب مایقول المأموم ) یعنی اے میرے رب! سب تعریف تیرے ہی لئے ہے کثرت سے تعریف اور پاک تعریف جو سب تعریفوں کی جامع ہے۔اس کے بعد وہ پھر اللّٰہُ اَ کْبَرْ کہہ کر سجدہ میں چلا جاتا ہے۔سجدہ اور اس کا طریق اور اس کی دعا سجدہ اسے کہتے ہیں کہ انسان اپنی سات ہڈیوں پر زمین پر جھک جاتا ہے یعنی اس کا ماتھا زمین پر پوری طرح لگا ہوا ہو اس کے دونوں ہاتھ قبلہ رُو زمین پر رکھ ہوئے ہوں اور اس کے گھٹنے بھی زمین پر لگے ہوئے ہوں اور اس کے دونوں پائوں بھی زمین پر لگے ہوئے ہوں اس طرح کہ دونوں پائوں کی انگلیاں دبا کر قبلہ رُو کی ہوئی ہوں (مسلم کتاب الصلوٰۃ باب فی اعضاء السجود۔۔۔) اس حالت میں مسلمان سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰیکہتا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اے میرے رب! تو اپنی شان کی بلندی کے لحاظ سے سب سے زیادہ ہے۔یہ فقرہ وہ کم سے کم تین دفعہ یا اس سے زیادہ کسی طاق عدد کے مطابق کہتا ہے (ترمذی ابواب الصلوٰۃ باب ماجاء فی التسبیح فی السجود) اس کے بعد وہ اللّٰہُ اَکْبَرْ کہہ کربیٹھ جاتا ہے۔اس طرح کہ اس کی بائیں لا ت تو تہہ ہو کر اس کے نیچے آجائے اور پائوں لیٹا ہوا ہو۔اور اس پر وہ سہارا لے کر بیٹھ جائے اور دائیں لات اس طرح ہو کہ ہو تو تہہ