تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 163

کی ہوئی مگر اس کا پائوں اس طرح کھڑا ہو کہ انگلیاں قبلہ رُخ ہوں۔دعا بَین السَّجْدَتَین اس وقفہ میں وہ یہ دعا پڑھتا ہے اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاھْدِ نِیْ وَعَا فِنِیْ وَارْزُقْنِیْ (ابو داؤد بحوالہ مشکٰوۃ کتاب الصلٰوۃ باب السجود و فضلہ) جس کے یہ معنے ہیں کہ اے میرے رب! میرے گناہ معاف کر اور مجھ پر رحم کر اور مجھے سب صداقتوں کی طرف رہنمائی بخش اور مجھے تمام عیبوں سے محفوظ رکھ اور مجھے اپنے پاس سے حلال و طیّب رزق عطا فرما۔(بعض احادیث میں وَاجْبُرْنِیْ اور بعض میں وَارْفَعْنِیْ آتا ہے یعنی اے میرے رب! میری تمام کمزوریوں کو دُور کر اور تمام نقصانات سے بچا۔اور میرا قدم ہر گھڑی ترقی کی شاہراہ پر گامزن رہے) اس کے بعد وہ پھر بآواز بلند اَللّٰہُ اَ کْبَرْ کہ کر پہلے کی طرح سجدہ میں چلا جاتا ہے۔اور پہلے سجدہ کی طرح دعا کر کے پھر اللّٰہُ اَکْبَرْ کہہ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔اسے ایک رکعت کہتے ہیں اس کے بعد وہ پہلے کی طرح پھر ایک رکعت ادا کرتا ہے صرف اس فرق کے ساتھ کہ سُبْـحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِـحَمْدِکَ والی دعا جس سے اُس نے نماز شروع کی تھی وہ اسے حذف کر دیتا ہے اور صرف سورۂ فاتحہ سے نماز شروع کرتا ہے۔اس دوسری رکعت کے ختم کرنے پر وہ اس طرح بیٹھ جاتا ہے جس طرح کہ پہلے سجدہ اور دوسرے سجدہ کے درمیان بیٹھا تھا۔تشہد اور تشہد پڑھتا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ۔اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ (بخاری کتاب الصلٰوۃ باب التشہّد فی الآخرۃ) یعنی تمام وہ کلمات جو تعظیم کے لئے زبان سے نکل سکتے ہیں اور تمام وہ عبادات جو جسم انسانی بجالا سکتا ہے اور تمام وہ مالی قربانیاں جو کسی پاک ذات کے لئے پیش کی جا سکتی ہیں خدا تعالیٰ کا ہی حق ہیں اس کے سوا اور کوئی ہستی ان کی مستحق نہیں اور اے نبی! تجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی نازل ہو اور اللہ تعالیٰ کا رحم تجھ پر اُترتا رہے اور اس کی برکتوں سے تو حصہ پاتا رہے اور ہم پر جو اس نماز میں شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندے جو پہلے گزر چکے ہیں یا اس وقت موجود ہیں یا آئندہ آنے والے ہیں ان سب پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے سلامتی نازل ہو اور یہ کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور یہ کہ محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔درود شریف اس کے بعد وہ درود پڑھتا ہے جو مختلف الفاظ میں آتا ہے مگر مختصر درود یہ ہے کہ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ (بخاری کتاب