تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 161

رکوع۷ میں بیان ہے۔مگر جس طرح بیماری اور پانی کے میسّر نہ آنے کی صورت میں وضو کی جگہ تیمم کو کافی قرار دیا گیا ہے اسی طرح ان دونوں صورتوں میں بھی غسل کی جگہ تیمم کو کافی قرار دیاگیا ہے۔نماز شروع کرتے ہوئے قبلہ کی طرف منہ کرنا وضو یا تیمم جو بھی صورت ہو اس کے بعد مسلمان کو حکم ہے کہ اگر امن کی حالت ہو اور زمین پر ہو تو قبلہ رُو کھڑا ہو کر (بخاری کِتَابُ الصَّلٰوۃِ بَابُ التَّوَجُّہِ نَحْوَ الْقِبْلَۃِ) دونوںہاتھ اٹھا کر اور ہاتھوں کو قبلہ رُو کر کے انگوٹھوں کو اَللّٰہُ اَکْبَرْ کہتے ہوئے (جس کے معنے ہیں اللہ سب سے بڑا ہے) کانوںکی لوئوں تک لائے (ابو داؤد کِتَابُ الصَّلٰوۃِ بَابُ اِسْتِفْتَاحِ الصَّلٰوۃِ و نسائی کِتَابُ الْاِ فْتِتَاحِ الصَّلٰوۃِ بَابُ مَوْضِعُ الْاِبْہَامَیْنِ عِنْدَالرَّفْعِ) نماز کو شروع کرنے کا طریق اور اس نیت کے ساتھ کہ وہ خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے لگا ہے دوسرے سب خیالات کو دور کر کے عبادت الٰہی کے خیال میں محو ہو جائے۔اس طرح ہاتھ اُٹھانے میں علاوہ توجہ کے قیام کے یہ بھی حکمت ہے کہ یہ حرکت طبعی طور پر باقی سب امور کو ترک کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔پس اس حرکت سے مسلمان یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس وقت دنیا کے سب خیالات اور کاموں سے علیحدہ ہو کر اپنے رب کی طرف متوجہ ہو گیا ہے۔ہاتھو ںکی اسی قسم کی حرکت کی طرف غالب نے اس شعر میں اشارہ کیا ہے۔؎ کانوں پہ ہاتھ دھرتے ہوئے کرتے ہیں سلام جس سے ہے یہ مراد کہ ہم آشنا نہیں پس اس حرکت سے مومن گویا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ سب دنیا سے قطع تعلق کر کے اپنے مولیٰ کی طرف متوجہ ہو گیا ہے۔اس کے علاوہ اس سے بیداری اور ُچستی بھی پیدا ہوتی ہے۔سینہ پر ہاتھ باندھنا اس کے بعد مسلمان اپنے سینہ پر ہاتھ باندھ لیتا ہے۔(ابن حُزیمۃ بروایت وائل بن حجر) گویا مؤدب ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے اور یہ عبارت کہتا ہے۔قیام اور اس کی دعائیں سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا اِلٰـہَ غَیْرُکَ (ترمذی اَبْوَابُ الصَّلٰوۃِ بَابُ مَایَقُوْلُ عِنْدَ اِفْتِتَاحِ الصَّلٰوۃِ و نسائی کِتَابُ الْاِ فْتِتَاحِ بَابُ الذِّکْرِبَیْنَ اِفْتِتَاحِ الصَّلٰوۃِ وَ بَیْنَ الْقِرَاءَۃِ) یعنی اے اللہ! توہر نقص سے جو تیرے مقام کے خلاف ہے پاک ہے او رہر خوبی سے جو تیری شان کے لائق ہے متصف ہے اور تیرا نام تمام برکتوں کا جامع ہے اور تیری شان بہت بلند ہے اور تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔اس کے بعد وہ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھتا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ اے اللہ! َمیں ہر اُس