تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 160

صرف با ہوں اور پائوں کا ٹھنڈے پانی سے دھونا یا تر کرنا سارے بدن سے بخار کی گرمی دور کرنے کے لئے کافی سمجھا جاتا ہے۔سر کی گرمی خیالات کو بہت پراگندہ کر دیتی ہے اس وجہ سے سر کا مسح رکھا گیا ہے جو سر کو ٹھنڈا کر کے سر کی گرمی کو دُور کرتا اور خیالات کے اجتماع میں ممد ہوتا ہے۔وضو کی ترکیب اور اس کا فلسفہ اعصابی ماہرین کے تجربہ سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہاتھوں او رپائوں کی انگلیوں کے ٹھنڈا کرنے سے بھی خیالات کی رَو کو بدلا جا سکتا ہے۔چنانچہ مسمریزم کے ماہرین کا تجربہ ہے کہ مسمریزم کے عمل کے بعد اگر ہاتھوں او رپائوں کو پانی ڈال کر ٹھنڈا کر لیا جائے تو اس دماغی برقی طاقت کے ضائع ہونے سے انسان بچ جاتا ہے جو مسمریزم کے عمل کے بعد دیر تک جاری رہ کر انسان کو کمزور کر دیتی ہے۔پس ہاتھوں اور پائوں کے دھونے سے بھی ان خیالات کی رَو کو رو کا جا سکتا ہے جو نماز سے پہلے انسان کے دماغ میں جاری ہوتی ہے اور اُسے پھیر کر عبادت اور ذکر الٰہی کی طرف لایا جا سکتا ہے۔غرض وضو ایک نہایت پرُ حکمت حکم ہے جس کے ایک جزو کی تجربہ اور علم الاعصاب تائید کرتے ہیں۔وضو کا حکم قرآن کریم میں موجود ہے۔(دیکھو سورۂ مائدۃ ع ۲) جب پانی میسر نہ ہو یا انسان بیمار ہو یا وضو سے بیماری کا خطرہ ہو تو اس صورت میں اسلام نے تیمم کا حکم دیا ہے (سورۃ مائدۃ آیت ۷ و نساء ۴۴) اور وہ حکم یہ ہے کہ پاک مٹی یا کسی پاکیزہ گرد والی چیز پر ہاتھ مار کر اپنے منہ پر اور ہاتھوں اور باہوں پر پھیر لے (بخاری کِتَابُ التَّیَمُّمِ بَابُ التَّیَمُّمِ لِلْوَجْہِ وَالْکَفَّیْنِ) یہ حکم بھی انہی حکمتوں سے پُر ہے کیونکہ تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ صاف اور پاک مٹی بھی پانی کا قائم مقام ہو جاتی ہے۔چنانچہ اسی حکمت کو کسی وقت سمجھ کر ہندو سادھوئوں نے جسم پر بھبوت ملنے کا طریقہ جاری کیا تھا مگر یہ بات اُن سے نظر انداز ہو گئی کہ یہ طریق ادنیٰ درجہ کا ہے او رپانی کے میسر نہ آنے یا استعمال نہ کر سکنے کی صورت میں ایک قائم مقام کے طور پر ہی استعمال ہو سکتا ہے ورنہ پانی کا استعمال بہرحال افضل اور اعلیٰ ہے۔تیمم کا حکم بھی قرآن کریم میں مذکور ہے اور سورۃ نساء ع ۷ میں اس کا ذکر آتا ہے۔مرد اور عورت کے شہوانی اجتماع کے بعد کے لئے ایک زائد حکم بھی ہے اور وہ یہ کہ نماز پڑھنے سے پہلے نہا بھی لے۔اس حکم میں یہ حکمت ہے کہ یہ فعل جیسا کہ تجربہ اس پر شاہد ہے سارے جسم پر اثر کرتا ہے اور جسم کے ہر حصہ کی برقی طاقت میں ایک ہیجان پیدا کر دیتا ہے۔پس اس کو ٹھنڈا کر کے سارے جسم کی برقی طاقت اور خیالات کے انتشار کو دُور کرنا عبادت کی تکمیل اور خدا تعالیٰ کے ساتھ حصولِ اِ ّتصال کے لئے ضروری ہے۔اس کا حکم سورۃ نساء کے