تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 159

نہیں پانی چاہیے بلکہ نماز کو کھڑا کرنا چاہیے تاکہ اس کے سہارے پر انسان کا تقویٰ بھی کھڑا رہے۔اسلامی نماز چونکہ قرآن کریم میں نماز قائم کرنے کا حکم یہاں پہلی دفعہ بیان ہوا ہے میں اسلامی نماز کی کیفیت کو اس جگہ مختصراً بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ جو غیر مسلم اس تفسیر کو پڑھیں انہیں نماز کے متعلق کچھ واقفیت ہو جائے۔نماز سے پہلے وضو یا تیمم اسلامی نماز کے ا دا کرنے سے پہلے وضو یاتیمم فرض ہے۔وضو کا حکم اصل ہے اور تیمم کا حکم بطور قائم مقام کے ہے۔(سورۃ مائدہ رکوع اوّل آیت ۷) وضو پانی سے کیا جاتا ہے اور اس میں پہلے ہاتھ دھوئے جاتے ہیں اس کے بعد کلیّ کر کے منہ صاف کیا جاتا ہے اور نتھنوں سے پانی اوپر کی طرف کھینچ کر ناک کو صاف کیا جاتا ہے اس کے بعد منہ دھویا جاتا ہے پھر کہنیو ںتک، کہنیوں کو شامل کرتے ہوئے دونوں ہاتھ دھوئے جاتے ہیں اس کے بعد ہاتھ گیلے کر کے سر کے بالوں پر ایک ثلث سے دو ثلث تک َمسح کیا جاتا ہے او رپھر انگوٹھے کے پاس کی انگلی سے کانو ںکے سوراخوں کو گیلا کیا جاتا ہے اور انگوٹھوں کو کانو ںکی ُپشتپر پھرایا جاتا ہے تاکہ کان کی ُپشت بھی گیلی ہو جائے اس کے بعد دونوں پائوں ٹخنوں تک دھوئے جاتے ہیں (بخاری کِتَابُ الْوُضُوْءِ بَابُ الْوُضُوْءِ ثَلَاثًا و نَسَائِی کِتَابُ الْوُضُوْءِ بَابُ مَسْحِ الْاُذُنَیْنِ مَعَ الرَّأْسِ) باہو ںاور پائوں کے دھونے میں اس امر کو ملحوظ رکھا جاتا ہے کہ دائیں طرف پہلے دھوئی جائے اور بائیں طرف بعد میں۔(نسائی کِتَابُ الْوُضُوْء بَابُ بِاَیِّ الرِّجْلَیْنِ یُبْدَأُ بِالْغُسْلِ) وضو کرتے وقت یہ نیّت کرنی بھی ضروری ہوتی ہے کہ نماز کے لئے یا طہارت کے لئے وضو کیا جا رہا ہے (نسائی کِتَابُ الْوُضُوْء بَابُ النِّیَّۃِ فِی الْوُضُوْءِ) اس سے یہ مقصود ہوتا ہے کہ خیالات کی رَو عبادت کی طرف پھر جائے اور اس وقت سے خیالات دوسرے کاموں کی طرف سے ہٹ جائیں۔یہ فعل ظاہری صفائی کا بھی موجب ہوتا ہے کیونکہ جن اعضاء کو دھویا جاتا ہے بوجہ بالعموم ننگا رہنے کے وہی گردو غبار کا نشانہ بنتے ہیں۔ان اعضاء کا دھونا یا گیلا کرنا خیالات کے اجتماع کے لئے بھی مفید اور ضروری ہوتا ہے کیونکہ خیالات کی پراگندگی حواس خمسہ کے مقامات کی تیزی سے ہوتی ہے اور حواس خمسہ کے مقامات آنکھیں، کان، ناک اور منہ اور جسم ہیں۔وضو میں کلیّ کے ذریعہ سے منہ کو تر کیا جاتا ہے اور اس میں یکسوئی کی قوت پیدا کی جاتی ہے۔ناک میں پانی ڈال کر اُسے ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔منہ دھوتے ہوئے آنکھوں کو تری پہنچائی جاتی ہے۔کانوں میں گیلی انگلیاں ڈال کر اور اُن کے پیچھے انگوٹھے کو حرکت دے کر کانوں کی ِحسکی پراگندگی کو دُور کیا جاتا ہے۔جسم کی زیادہ ِحس کو دُور کرنے کے لئے باہیں اور پائوں دھوئے جاتے ہیں۔اور طبیّ تجربہ اس امر پر شاہد ہے کہ بخار کی تیزی کو دُور کرنے کے لئے