تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 144

اس عورت یا مال کے بہت سے خواہش کرنے والے یا طالب پیدا ہو گئے ہیں اور اَلنَّافِقُ اس مال کو کہتے ہیں جو بازار میں جاتے ہی ِبکجائے (اقرب) پس مادہ کے لحاظ سے اس کے معنے نکالنے اور جاری کرنے اور مسلسل طو رپر مال کو خرچ کرنے کے ہیں۔تفسیر۔جیسا کہ حَلِّ لُغَات میں بتایا جا چکا ہے ایمان کے معنے یقین رکھنے اور فرمانبرداری کرنے کے ہوتے ہیں۔جس کو یقین نہ ہو وہ مومن نہیں کہلا سکتا بلکہ منافق کہلاتا ہے۔جیسا کہ سورۃ البقرۃ ع ۲ آیت نمبر۹ میں فرمایا وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِيْنَ یعنی کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جو مُنہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور یوم آخر پر ایمان لائے ہیں حالانکہ وہ دل سے اس امر کو نہیں مانتے۔اسی طرح قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ جن میں یقین ہو اور اطاعت نہ ہو وہ بھی مومن نہیں بلکہ کافر کہلاتے ہیں۔جیسا کہ سورۃ النمل ع۱ آیت ۱۵ میں فرمایا وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَيْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا۔یعنی وہ اس کا انکار ظلم اور دشمنی سے کرتے ہیں حالانکہ اُن کے دل اس پر یقین رکھتے ہیں۔يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ کے معنے اندھا دھند مان لینے کے نہیں یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ کے یہ معنے ہر گز نہیں کہ اندھا دُھند مان لیتے ہیں۔یہ معنے نہ زبان عرب کے رُو سے درست ہیں اور نہ قرآن کریم ہی ان معنوں کی تصدیق کرتا ہے۔کیونکہ بے دلیل ماننے والوں کو قرآن نے بار بار الزام دیا ہے۔جیسے کہ سورۃ النجم ع۱ آیت ۲۴ میں فرمایا۔اِنْ هِيَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ۔یعنی یہ تو چند نام ہیں جو تم لوگوں نے اور تمہارے باپ دادوں نے خود ہی رکھ دیئے ہیں خدا تعالیٰ نے اس کی کوئی دلیل بیان نہیں کی۔یہ لوگ صرف اپنے وہموں کی یا اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم دشمنانِ اسلام پر اعتراض کرتا ہے کہ وہ بے دلیل باتوں کو جن کے لئے نہ آسمانی دلیل ہوتی ہے نہ عقلی، مانتے ہیں اور اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور وہمی باتوں کے پیچھے چلتے ہیں۔پس جبکہ اللہ تعالیٰ وہمی باتوں کے ماننے کو قابل اعتراض قرار دیتا ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ قرآن کریم کی ابتدا ہی میں وہ مسلمانوں کو بے دلیل باتوں کے ماننے کا حکم دے اور اس امر کو تقویٰ کا جز قرار دے۔قرآن کریم کی متعدد آیات میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ ایمان دلائل اور براہین پر مبنی ہونا چاہیے نہ کہ وہم اور گمان پر۔چنانچہ سورۃ احقاف ع ۱میں فرماتا ہے۔قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِيْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمٰوٰتِ١ؕ اِيْتُوْنِيْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ (الاحقاف:۵)۔