تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 145
یعنی مجھے بتائو تو سہی کہ خدا کے سوا جن وجودوں کو تم پکارتے ہو کیا ان میں کوئی حقیقت بھی ہے؟ اگر ہے تو مجھے ذرابتائو تو کہ انہوں نے زمین میں سے کس چیز کو پیدا کیا ہے؟ یا یہ تو ثابت کرو کہ آسمانی بادشاہت میں اُن کا کوئی حصہ ہے اور اگر تم سچے ہو تواس کے لئے یا تو قرآن سے پہلے کی کسی آسمانی کتاب میں سے دلیل پیش کرو یا اپنے باپ دادوں کی بتائی ہوئی کسی علمی بات کو ہی پیش کرو۔یعنی تمام شرکیہ مسائل نہ تو کسی آسمانی کتاب سے ثابت ہیں نہ کسی علمی دلیل سے ثابت ہو سکتے ہیں پھر ان پر ایمان لانا کس طرح جائز اور ممکن ہو سکتا ہے؟ اسی طرح فرماتا ہے اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ يُشْرِكُوْنَ (الروم:۳۶) یعنی کیا اللہ تعالیٰ کے شریک قرار دینے کی کوئی بھی دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے مہیا کی ہو اور وہ شرک کی صداقت پر گواہ ہو ؟اگر ایسا نہیں تو پھر بے دلیل بات کو یہ لوگ کس طرح مان رہے ہیں؟ اسی طرح فرماتا ہے قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ۔قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ(الانعام : ۱۴۹،۱۵۰) یعنی کفار سے کہہ دو کہ کیا تمہارے پاس اپنے دعاوی کی کوئی علمی دلیل بھی ہے جسے تم ہمارے سامنے پیش کر سکو ؟تمہارے پاس ہر گز ایسی کوئی دلیل نہیں بلکہ تم تو صرف وہم کی پیروی کرتے ہو اور صرف ڈھکونسلے مارتے ہو۔پھر فرماتا ہے کہ اے ہمارے رسول! ان سے یہ بھی کہو کہ اللہ تعالیٰ تو وہ باتیں اپنے بندوں سے منواتا ہے جن کے دلائل مکمل طور پر موجود ہوتے ہیں۔پس جو بات بے ثبوت ہو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہو سکتی۔اسی طرح مومنوں کی نسبت قرآن کریم میں فرماتا ہے وَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوْا عَلَيْهَا صُمًّا وَّ عُمْيَانًا (الفرقان:۷۴) یعنی مومنوں کے سامنے جب اُن کے رب کی آیات بیان کی جاتی ہیں تو وہ اُنہیں اندھا دُھند نہیں مانتے بلکہ سوچ سمجھ کر اور دلائل کے ساتھ مانتے ہیں۔نیز فرماتا ہے قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِيْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِيْ(یوسف :۱۰۹) اے ہمارے رسول! اپنے منکروں سے کہہ دو کہ میرا راستہ مذکورہ بالاراستہ ہے میں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں اور میں اور میرے متبع کسی بے دلیل بات کو نہیں مانتے بلکہ ہم سوچ سمجھ کر اور دلائل قطعیہ کی بناء پر جو شک و شبہ سے بالا ہوتے ہیں ایمان لاتے ہیں۔قرآن کریم میں غیب کا لفظ جن معنوں میں استعمال ہوا ہے ان سے بھی ثابت ہے کہ اس سے مراد وہمی امور نہیں۔فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ (الحجرات :۱۹) اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین کے غیب کو جانتا ہے اس جگہ غیب کا لفظ حقیقت کے لئے بولا گیا ہے۔کیونکہ اگر غیب کے معنے محض وہمی اور بے دلیل باتوں کے ہوں تو اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ بے دلیل اور وہمی باتوں کو جانتا ہے اور یہ ترجمہ بالبداہت غلط ہے۔