تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 143
معنے استغفار کے ہوتے ہیں اور جب مومنوں کے لئے بولا جائے تو اس کے معنے دعا یا نماز کے ہوتے ہیں اور جب پرند اور حشرات کےلئے یہ لفظ استعمال ہو تو اس کے معنے تسبیح کرنے کے ہوتے ہیں۔وَھِیَ لَا تَکُوْنُ اِلَّا فِی الْخَیْرِ بِخَـلَافِ الدُّعَائِ فَاِنَّہٗ یَکُوْنُ فِی الْخَیْرِ وَالشَّرِّ۔اور لفظ صلٰوۃ صرف نیک دعا کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن لفظ دعا، بد دعا اور نیک دعا دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔لفظ صلٰوۃ کے ایک معنے حُسْنُ الثَّنَائِ مِنَ اللّٰہِ عَلَی الرَّسُوْلِ کے بھی ہیں یعنی جب صَلَّیفعل کا فاعل اللہ تعالیٰ ہو اور مفعول آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات ہو تو اس وقت اس کے معنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول کریم کی بہترین تعریف کے ہوتے ہیں۔(اقرب) وَیُسَمَّی مَوْضِعُ الْعِبَادَۃِ الصَّلٰوۃَ اور عبادت گاہ کو بھی اَلصَّلٰوۃ کہہ دیتے ہیں (مفردات) پس یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ کے معنے ہوںگے (۱) نماز کو باجماعت ادا کرتے ہیں (۲) نماز کو اس کی شرائط کے مطابق اور اس کے اوقات میں صحیح طو رپر ادا کرتے ہیں (۳) لوگوں کو نماز کی تلقین کر کے مساجد کو بارونق بناتے ہیں (۴) نماز کی محبت اور خواہش لوگوں کے دلوںمیں پیدا کرتے ہیں (۵) نماز پر دوام اختیا کرتے ہیں اور اس پر پابندی اختیار کرتے ہیں (۶) نماز کو قائم رکھتے ہیں یعنی گرنے سے بچاتے رہتے اور اس کی حفاظت میں لگے رہتے ہیں۔رَزَقْنَا۔رَزَقْنَا۔رَزَقَ سے متکلّم مع الغیر کا صیغہ ہے اور اَلرِّزْقُ (جو رَزَقَ کا مصدر ہے) کے معنے ہیں۔اَلْعَطَائُ۔عطا کرنا۔دینا۔جیسے کہتے ہیں رُزِقْتُ عِلْمًا کہ مجھے علم دیا گیا ہے۔اور اس کے ایک معنی حصہ کے بھی ہیں جیسے وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ(الواقعۃ:۸۳) کہ تم نے اپنے ذمہ یہ کام لگا لیا ہے کہ رسول اور خدا کی باتوں کا انکار کرتے ہو (مفردات) اقرب الموارد میں ہے۔اَلرِّزْقُ۔مَایُنْتَفَعُ بِہٖ ہر وہ چیز جس سے نفع اُٹھایا جائے۔اور رَزَقَہُ اللّٰہُ (یَرْزُقُ) رِزْقًا کے معنے ہیں اَوْصَلَ اِلَیْہِ رِزْقًا کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے ایسی اشیاء عطا فرمائیں جن سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔رزق اس چیز کو بھی کہتے ہیں جو غذا کے طور پر استعمال کی جائے (مفردات) یُنْفِقُوْنَ۔یُنْفِقُوْنَ۔اَنْفَقَ سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور اَنْفَقَ مَالَـہٗ کے معنے ہیں صَرَفَہٗ وَ اَنْفَدَہٗ۔مال کو خرچ کرتا رہا اور اس کو ختم کر دیا۔اِنْفَاق کے اصل معنے کسی چیز کو مقبول اور ہاتھوں ہاتھ ِبک جانے والا بنا دینے کے ہیں چنانچہ کہتے ہیں اَنْفَقَ التَّاجِرُ۔نَفَقَتْ تِجَارَتُـہٗ کہ تاجر کی تجارت خوب چل پڑی اور سامان تجارت مقبول ہو کر فروخت ہونے لگا۔اور اَنْفَقَ السِّلْعَۃَ کے معنے ہیں رَوَّجَہَا۔سامان کو ایسا بنا دیا کہ ہاتھوں ہاتھ ِبِکجائے۔چنانچہ جب کسی سامان تجارت کے گاہک زیادہ ہوں یا کسی عورت کی شادی کے خواہشمند زیادہ تعداد میں ہوں تو نَفَقَکا لفظ استعمال کرتے ہیں اور کہتے ہیں نَفَقَتِ الْمَرأْۃُ وَالسِّلْعَۃُ اَیْ کَثُرَ طُلَّا بُہَا وَخُطَّا بُہَا یعنی