تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 133
امر بیان کرنے سے رہ نہیں گیا بلکہ سب ضروری امور اس میں بیان کر دیئے گئے ہیں اور قرآن مجید کامل کتاب ہے۔تو ہم اس دن کو جس دن وہ آیت اُترتی عید کا دن مقرر کرتے۔اور خوشی مناتے کہ ہماری شریعت کامل شریعت ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ مجھے خوب یاد ہے کہ کب او رکہاں یہ آیت نازل ہوئی۔یہ آیت حج کے ایام میں یوم عرفہ میں جمعہ کے روز نازل ہوئی۔گویا تم تو ایک دن عید مناتے لیکن ہمارے لئے یہ دو عیدیں تھیں ایک جمعہ کا دن اور دُوسرا یوم عرفہ۔اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے آیت اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ پڑھی اور پاس ہی ایک یہودی کھڑا تھا۔اس نے اُن سے کہا کہ اگر یہ آیت ہم پر اترتی تو ہم اُس روز عید مناتے۔حضرت ابن عباسؓ نے جواب دیا کہ یہ آیت نازل ہی ایسے ایام میں ہوئی جبکہ دو عیدیں جمع تھیں۔(ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ المائدۃ) خلاصہ کلام یہ کہ لَا رَیْبَ فِیْہِ میں صرف اس امر کی تاکید نہیں کی گئی کہ یہ کلام سچا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔بلکہ رَیْب کے معنوں پر نظر کرتے ہوئے اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ (۱) اس میں کسی صداقت کا انکار نہیں ہے بلکہ سب صداقتوں کا اقرار کیا گیا ہے اور مذہب کے سب ضروری امورپر سے تہمتوں اور بدگمانیوں کو دور کیا گیا ہے (۲) اس میں کوئی ظنیّ اور شکیّ بات نہیں بلکہ ہر بات دلیل سے بیان کی گئی ہے (۳) یہ کلام محفوظ اور یقینی ہے اور ہمیشہ محفوظ رہے گا (۴) اس میں کوئی ایسا امر نہیں جو انسان کے لئے تکلیف اور تباہی کا موجب ہو (۵) اس میں سب ضروری امور بیان کر دیئے گئے ہیں اور کوئی ایسا مذہبی اخلاقی تمدنی اقتصادی سیاسی وغیرہ مسئلہ نہیں جس کے بارہ میں اس میں مکمل تعلیم نہ دی گئی ہو۔هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠کے چار معنے هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠۔ان الفاظ میںیہ بتایا کہ (۱) قرآن کریم میں وصالِ الٰہی کی تڑپ پیدا کرنے کے سامان موجود ہیں یعنی ہر فطرت صحیحہ کو اس کی تلاوت کے ذریعہ سے وہ ضروری دھکا لگتا ہے جس کے بغیر والہانہ اور عاشقانہ قدم ارواح اپنے معشوقِ حقیقی کی طرف نہیں اٹھا سکتیں۔صرف فلسفیانہ خیالات کا پیدا ہونا انسان کے لئے کافی نہیں ہوتا کیونکہ فلسفہ صرف خیالات کو درست کرتا ہے ایک ناقابل برداشت جذبہ اس سے پیدا نہیں ہوتا مگر عمل کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ فطرتِ انسانی کو ایک ایسا دھکا لگے کہ وہ آپ ہی آپ آگے بڑھتی چلی جائے۔خدمت اور ایثار پر فلسفی زبردست تقریر کر سکتا ہے ایک جاہل ماں اس کا لاکھواں حصہ بھی بیان نہیں کر سکتی لیکن اپنے بچہ کے لئے جس ایثار اور قربانی کا عملی نمونہ وہ دکھاتی ہے ایک فلسفی بنی نوع انسان کے لئے اس نمونہ کا لاکھواں حصہ بھی پیش نہیں کر سکتا۔پس جب تک کوئی کتاب هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ نہ ہو یعنی جن لوگوں کے