تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 134

خیالات و افکار دلیل اور بُرہان سے پاک ہو چکے ہوں اُن کے اندر عشق اور محبت کی آگ نہ بھڑکا دے اور ایک طرف خدا تعالیٰ کی طرف محبت سے بڑھتے چلے جانے اور دوسری طرف مخلوق کی طرف شفقت سے جھکتے چلے جانے کا بے پناہ جذبہ نہ پیدا کر دے وہ دنیا کی عملی اصلاح میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔اور قرآن کریم هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ کے الفاظ سے اسی مقصد کے پورا کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اس کتاب کے مطالعہ سے انسانی فطرت کو وہ ابتدائی دھکا لگتا ہے جو اُسے عشق کی ر اہ پر گامزن کر دیتا ہے۔قرآن مجید میں وصال الٰہی کی تڑپ پیدا کرنے کے سامان دوسرے معنے ہدایت کے اس ارشاد کے ہوتے ہیں جو نبیو ںکے ذریعہ سے انسانوں کو پہنچایا جاتا ہے۔ان معنوں کے رُو سے اس جملہ کے معنے یہ ہوں گے کہ جو لوگ اس امر کے شائق ہیں کہ اُن کو اُن کے خالق ومالک کی طرف سے ہدایت ملتی رہے ان کی خواہش کے پورا کرنے کے بھی اس میں سامان موجود ہیں اور خواہ کسی درجہ کا متقی ہو اس کی راہنمائی کے لئے اس کتاب میں پاک اور مصفّٰی الٰہی تعلیم موجود ہے جس سے متقی کے دل کو یہ تسکین حاصل ہوتی ہے کہ وہ صرف اپنی عقل سے کام نہیں لے رہا بلکہ اُسے خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی ہدایت حاصل ہے جس کی مدد سے وہ ہر قدم یقین اور اطمینان سے اُٹھا سکتا ہے اور شک و شبہ کی زندگی سے پاک ہو جاتا ہے۔قرآن مجید کے ایک حکم پر عمل کرنے سے مزید نیکیوں کی توفیق ملتی ہے تیسرے معنے ہدایت کے جیسا کہحلِّ لُغَات میں بتایا جا چکا ہے عمل کی مزید توفیق اور فکر کی بلندی کے ہیں۔ان معنوں کے رو سے اس جملہ کے یہ معنے ہیں کہ قرآن کریم میں ایسی قوت ہے کہ جب اس کے کسی حکم پر انسان عمل کرے تو اسے مزید نیکیو ںکی توفیق ملتی ہے اور اس کے خیالات میں جلا پیدا ہوتی ہے اور اس کا فکر اور اس کا حوصلہ بڑھتا چلا جاتا ہے اور باریک در باریک تقویٰ کی راہیں اس پر کھولی جاتی ہیں گویا وہ ایک لامتناہی نیکی اور تقویٰ کی نہ ختم ہونے والی راہوں پر چل پڑتا ہے اور اس کی ترقیات کی کوئی انتہا مقرر نہیں کی جا سکتی۔دوسری جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ الَّذِيْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ(محمّد:۱۸) یعنی جو لوگ ہدایت پا جائیں انہیں اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے ذریعہ سے ہدایت میں اور بھی بڑھاتا ہے اور ان کے مناسب حال تقویٰ انہیں عطا کرتا ہے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ ہدایت اور تقویٰ کسی ایک مقام کا نام نہیں ہیں بلکہ ہدایت کے بھی مختلف مقامات ہیں اور تقویٰ کے بھی مختلف مقامات ہیں۔قرآن کریم ہدایت یا فتو ںکو ان کے مقام سے اوپر کے مقام ِہدایت کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور پھر اس مقام کے مناسب ِحال تقویٰ کا مقام اس شخص کو دیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ لامتناہی ترقیات کی طرف