تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 132
صرف سب خوبیوں کی جامع ہے بلکہ سب نقائص سے پاک بھی ہے۔کیونکہ بعض دفعہ ایک نسخہ کسی خاص مرض کے لئے مفید تو ہوتا ہے لیکن اس فائدہ کے ساتھ بعض اور نقصان بھی پہنچا دیتا ہے پس ان الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ جو ضرورت بھی انسان کو مذہب کے بارہ میں پیدا ہو قرآن کریم اس کو پورا کرتا ہے اور ساتھ ہی اس میں یہ خوبی بھی ہے کہ اس پر عمل کرنے سے کسی اور جہت سے انسان کی روحانیت کو نقصان بھی نہیں پہنچتا۔چنانچہ اس بارہ میں اللہ تعالیٰ سورۃ طٰہٰ میں فرماتا ہے۔مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤى (طٰہٰ : ۳) یعنی اس قرآن کریم میں کوئی ایسی بات نہیں جس سے انسان دین یا دنیا میں نقصان اٹھائے بلکہ اس کی تعلیم مفید ہونے کے ساتھ بے ضرر بھی ہے۔اس بارہ میں بھی آئندہ تفسیر میں متعدد مثالیں پیش کی جائیں گی (انشاء اللہ) جن سے معلوم ہو گا کہ قرآن کریم میں کوئی ایسی بات نہیں جس سے انسان کی روحانیت یا اخلاق کو نقصان پہنچتا ہو بلکہ وہ خالص خیر ہی خیر ہے۔او ریہ امر بھی اسے دوسری کتب پر ایک زبردست فوقیت عطا کرتا ہے۔قرآن مجید میں کوئی امر بیان کرنے سے رہ نہیں گیا ۴۔چوتھے معنے رَیْب کے حَاجَۃٌ کے بتائے گئے تھے۔ان معنوں کے رُو سے لَارَیْبَ فِیْہِ کے معنے یہ ہوں گے کہ اس کتاب میں کوئی دینی امر بیان کرنے سے رہ نہیں گیا بلکہ سب ضروری امور اس میں بیان کر دیئے گئے ہیں چنانچہ یہ فضیلت بھی قرآن کریم میں پائی جاتی ہے اور وہ ایک ایسی جامع کتاب ہے کہ کوئی انسانی ضرورت ایسی نہیں جس کے متعلق اس میں شافی تعلیم موجود نہیں۔کوئی اعتقادی او رکوئی عملی اور کوئی اخلاقی اور کوئی اقتصادی اور کوئی مدنی امر نہیں جس کے بارہ میں قرآن کریم میں بحث نہ کی گئی ہو اور اس کے متعلق ہدایت نہ دی گئی ہو بلکہ باوجود قلیل الـحجم ہونے کے قرآن کریم میں سب ضروری امور پر اس طرح روشنی ڈالی گئی ہے کہ انسان حیران ہو جاتا ہے اور اسے قرآن کریم کا ایک زبردست معجزہ تسلیم کرنے پر مجبو رہو جاتا ہے۔اس خوبی کی طرف شروع سے اس کے دشمنوں کی نگاہ بھی پڑتی چلی آئی ہے۔قرآن مجید کے مکمل ہونے کے متعلق یہودیوں کی شہادتیں چنانچہ احادیث میں آتا ہے۔کہ قَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْیَھُوْدِ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ یَا اَمِیْرَ الْمُؤمِنِیْنَ لَوْ عَلَیْنَا اُنْزِلَتْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃُ( اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِ سْلَامَ دِیْنًا) لَا تَّخَذْنَا ذَالِکَ الْیَوْمَ عِیْدًا، فَقَالَ’’ عُمَرُ بْنُ خَطَّابٍ‘‘ اِنِّیْ لَاَعْلَمُ اَیَّ یَوْمٍ اُنْزِلَتْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃُ اُنْزِلَتْ یَوْمَ عَرَفَۃَ فِیْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ (ترمذی کتاب التفسیر باب و من سورۃ المآئدۃ)کہ ایک یہودی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملا۔اور کہنے لگا۔کہ اگرہم پر آیت اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ (المائدۃ : ۴) اترتی۔جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن مجید میں کوئی دینی