تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 126

ہے اور آج بھی جبکہ قرآن کریم کے نزول پر تیرہ سو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے دوست تو الگ رہے دشمن بھی اس کے محفوظ ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔اور قرآن کریم اندرونی اور بیرونی شواہد بھی ایسے رکھتا ہے جو اُس کے محفوظ ہونے پر گواہ ہیں۔قرآن مجید کے زمانہ کی دستبرد سے محفوظ رہنے کے متعلق ایک غیرمسلم کی شہادت چنانچہ سرولیم میور جیسا شخص بھی اس کے بارہ میں گواہی دیتا ہے کہ: THERE IS OTHERWISE EVERY SECURITY INTERNAL AND EXTERNAL THAT WE POSSESS THAT TEXT WHICH MOHAMMAD HIMSELF GAVE FORTH AND USED۔یعنی ’’ہمارے پاس ہر ایک قسم کی ضمانت موجود ہے۔اندرونی شہادت کی بھی اور بیرونی کی بھی کہ یہ کتاب جو ہمارے پاس ہے وہی ہے جو خود محمد (صلے اللہ علیہ وسلم) نے دنیا کے سامنے پیش کی تھی اور اُسے استعمال کیا کرتے تھے۔‘‘ (لائف آف محمد صفحہ ۵۶۱) قرآن کریم کی یہ فضیلت ایسی ہے جو دوسری کتب کے مقابلہ پر اس کی ضرورت کو روز روشن کی طرح ثابت کر دیتی ہے کیونکہ جس کلام کے محفوظ ہونے میں شک پڑ جائے اس پر عمل کرنے کے لیے انشراح صدر پیدا نہیں ہوتا اور مذہب کےلئے کامل انشراح کا ہونا ضروری ہے۔ژند اوستا کے غیرمحفوظ ہونے کا ثبوت بے شک قرآن کریم کے وقت میں عہد نامہ قدیم موجود تھا عہد نامہ جدید موجود تھا۔وید موجود تھے۔ژند اور اس کی شرح اوستا موجود تھی۔مگر ان میں سے ایک کتاب بھی تو نہ تھی جو اس طرح محفوظ ہو جس طرح کہ وہ نازل ہوئی تھی۔ژند اوستا کے متعلق تو خود پارسی بھی مقر ہیں کہ اس کے بہت سے حصے ضائع ہو چکے ہیں اور موجودہ ژند ایسی نامکمل صورت میں ہے کہ اس کے غیر محفوظ ہونے میں کوئی شک ہی نہیں ہو سکتا۔چنانچہ انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس جلد ۲ صفحہ ۲۶۷ زیر لفظ Avista پر لکھا ہے کہ شاہ یستاسپ (VISHTASPA) نے جو زر تشت مذہب کا سر پرست تھا۔اوستا کے دو نسخے سنہری حروف میں لکھوا کر اصطخرہ اور سمرقند میں رکھوائے ہوئے تھے لیکن ۳۳۰ قبل مسیح سکندر کے حملہ کے دوران میں وہ دونوں نسخے تباہ کر دیئے گئے اور سکندراعظم کی تاخت و تاراج نے زر تشتی مذہب کی طاقت کو توڑ دیا۔اور ان پانچ صدیوں میں جو اس کے بعد آئیں۔سیلیسڈ (SELEUCID ) اور پارتھین( PARTHIAN) کا عہد حکومت زر تشتی مذہب کی