تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 127
تاریخ میں تاریکی اور پستی کا زمانہ ہے جس کے نتیجہ میں اصل مذہبی کتابوں کا بہت بڑا حصہ ضائع ہو گیا۔باوجود اس غفلت کے جو اس کے نتیجہ میں پیدا ہوئی مذہبی کتب کے معتدبہ حصے متفرق کتابوں میں اور علماء کے حافظہ میں یاد رہے۔ویدوں کے غیرمحفوظ ہونے کا اقرار ہندوئوں کے علماء کی تحریرات سے وید بھی غیر محفوظ ہیں اُن کے مختلف نسخے آپس میں اس قدر اختلاف رکھتے ہیں کہ اُن کے متغیر ہونے کی ایک کھلی دلیل ہیں حتیٰ کہ منتروں کے منتر بعض نسخوں میں موجود ہیں اور بعض میں نہیں اور بعض میں عبارت کسی طرح ہے اور بعض میں کسی طرح ہے چنانچہ زمانہ قدیم کے ہندو علماء میں سے ایک عالم نے آج سے کئی صدیاں قبل وید کے محرّف ہونے کے متعلق ان الفاظ میں گواہی دی ہے کہ ’’وید بیاس نے تودَوَ اپرَ ُیگ میں چاروں ویدوں کا ذکر کیا ہے لیکن رشیوں کی اولاد نے علم کی خامی کی وجہ سے ویدوں کو ایک دوسرے سے مختلف بنا دیا۔کہیں منتروں کے ساتھ براہمن بھاگ (تفسیری حصہ) شامل کر دیا اور کہیں اعراب اور الفاظ کے فرق سے رِگ ، یجر اور سام وید کو کئی طرح کا بنا دیا۔بعض جگہ ازراہِ تشریح و عام خیالات کے ذریعہ نیز کلپ سوتروں کو ایشوری کلام میں شامل کر کے انہیں مختلف شکلوں میں تبدیل کیا گیا ہے‘‘ (کوُرم ُپوران ُپورو آردھ۔ادھیائے نمبر۲۰ شلوک نمبر۴۴ تا نمبر۴۶) ویدوں کے غیر محفوظ ہونے کے متعلق جو کچھ اُوپر لکھا گیا ہے اس کی تائید زمانہ حال کے ہندو اور آریہ سماجی پنڈت بھی کرتے ہیں جس سے وید کی موجودہ حالت کا پتہ لگتا ہے۔چنانچہ پنڈت جے دیو شرما اپنے سام ویدبھاش (تفسیر) کے صفحہ ۲۹۵ میں لکھتے ہیں کہ ’’سام وید کے کئی نسخوں میں آرَنِّیَک کانڈ (باب) نہیں ہے۔‘‘ اسی طرح پنڈت ُتلسی رَام سوامی اپنے سام وید بھاش جلد ۲ صفحہ ۸۳۴ میں لکھتے ہیں کہ ’’سام وید کا جو نسخہ پنڈت ستیہ برت سام شرمی نے شائع کیا ہے اس میں ’’مہانامنی سوُکت‘‘ نہیں ہیں حالانکہ یہ آرَنِّیَک کا نڈ اور مہانامنی سوُکت آریوں کے شائع کردہ نسخہ مطبوعہ اجمیر میں موجود ہیں۔مگر جو سام وید بنار س میں شائع ہوا ہے اس میں یہ دونوں باب نہیں پائے جاتے۔ان دونوں میں ۶۵ منتر ہیں جو بعض نسخوں میں ہیں اور بعض میں نہیں یہی حالت رِگوید، یجر وید اور اتھروید کی ہے۔چنانچہ اتھروید کی تحریف کے متعلق پنڈت ویدک منی نے تو یہاں تک لکھ دیا ہے کہ ’’حقیقت میں جتنی برُی حالت اتھروید کی ہوئی ہے اتنی اور کسی ویدکی نہیں ہوئی سائن آچاریہ کے بعد بھی کئی سوکت (باب) اس میں شامل کئے گئے ہیں۔‘‘ (ویدسَرْدَسَو صفحہ ۹۷) تورات کے غیرمحفوظ ہونے کا ثبوت تورات بھی اپنے غیر محفوظ ہونے پر شاہد ہے مثلاً تورات میں جو حضرت موسیٰ کی کتاب ہے لکھا ہے۔’’سو خداوند کا بندہ موسیٰ خداوند کے حکم کے موافق مو آب کی سر زمین میں مر گیا اور