تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 125
دعا کا عقیدہ پیش کرتا ہے تو اس کی تائید میں دلیلیں بھی دیتا ہے۔اگر انبیاء پر ایمان لانے کو کہتا ہے تو ان کی صداقت کے ثبوت بھی بہم پہنچاتا ہے۔اگر بعث بعد الموت منواتا ہے تو اس عقیدہ کو براہین قویہ سے ثابت بھی کرتا ہے۔غرض کوئی ایسا عقیدہ نہیں جسے قرآن کریم پیش کرتا ہو اور اس کی صداقت کے ثبوت میں اس نے دلائل بھی نہ دیئے ہوں۔چنانچہ ان امور کی تفصیل قرآن کریم کی مختلف آیات کی تفسیر میں آگے چل کر بیان ہو گی۔پس لَارَیْبَ فِیْہِ کہہ کر قرآن کریم نے اس امر کو پیش کیا ہے کہ گو قرآن کریم ایک کامل کتاب ہے یعنی ہر ضروری امر کے متعلق اس میں بحث کی گئی ہے پھر بھی وہ ظنیّ اور شکیّ امور کو پیش نہیں کرتا بلکہ ہر امر کی دلیل ساتھ دیتا ہے اور تحقیق کے ساتھ ہر مسئلہ کو پیش کرتا ہے اور یہ امر قرآن کریم کی افضلیت کا ایک زبردست ثبوت ہے کیونکہ یہ امر تو آسان ہے کہ ایک دو امور جو تحقیقی طور پر ثابت ہو چکے ہوں ان کو با دلائل بیان کر دیا جائے لیکن یہ امر نہایت مشکل ہے کہ ہر ضروری امر کے متعلق بحث بھی کی جائے اور پھر ہر بات کو دلائل کے ساتھ ثابت بھی کیا جائے اور ظن اور گمان کی حد سے نکال کر یقین اور وثوق کے مقام پر کھڑا کر دیا جائے۔ظاہر ہے کہ جو کتاب اپنے تمام دعاوی کو اس طرح پیش کرے گی اس کے سچا ہونے میں کسی منصف مزاج کو شک اور تردّد نہ ہو سکے گا۔لَارَیْبَ فِیْہِ میں قرآن مجید کے منسوخ نہ ہونے کے متعلق پیشگوئی لَارَیْبَ فِیْہِ کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ قرآن کریم کے محفوظ ہونے میں کوئی شک نہیں اور ذٰلِكَ الْكِتٰبُ کے بعد یہ الفاظ اس مضمون پر دلالت کرتے ہیں کہ اس کتاب کے بعد کوئی اور کتاب نازل نہ ہو گی اور یہ دنیا کے لئے آخری ہدایت نامہ ہے۔کیونکہ جیسا کہ بتایا جا چکاہے ذٰلِكَ الْكِتٰبُ کا ایک مفہوم یہ ہے کہ یہ کامل کتاب ہے اور تمام انسانی ضروریات کے پورا کرنے کا سامان اس میں موجود ہے اس قسم کی کتاب کے بعد دوسری کتاب اسی صورت میں نازل ہو سکتی ہے جب وہ محفوظ نہ رہے۔کیونکہ نئے قانون کی دو ہی صورت میں ضرورت ہوتی ہے یا تو اس وقت جبکہ پہلا قانون ناقص ہو اور کسی وقت جا کر لوگوں کی ضروریات کے پورا کرنے سے قاصر ہو جائے یا پھر اس صورت میں کہ پہلا قانون دنیا سے کلی طور پر یا جزوی طور پر مفقود ہو جائے اور اسے دوبارہ تازہ کرنے کی ضرورت ہو سو ذٰلِكَ الْكِتٰبُ کے بعد لَارَیْبَ فِیْہِ فرما کر یہ بتایا کہ یہ کامل کتاب ہمیشہ زمانہ کی دست بُرد سے محفوظ رہے گی اور کوئی زمانہ ایسا نہ آئے گا کہ اس کے بارہ میں یہ شک کیا جا سکے کہ آیا اس کے الفاظ وہی ہیں جو کسی وقت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئے تھے یا ان میں کوئی تغیرّ تبدّل ہو گیا ہے اور چونکہ ایسا زمانہ اس پر کوئی نہ آئے گا یہ کتاب منسوخ نہ ہو گی اور آئندہ سب زمانوں میں اسی کے مطابق لوگوں کو رُوحانی زندگی بسر کرنی پڑے گی۔یہ مفہوم بھی قرآن کریم کی ایک زبردست خوبی پر دلالت کرتا