تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 5
تفصیلی مفہوم مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہر ہو گا۔چنانچہ مکاشفات میں لکھا ہے کہ نبی کو ایک آسمانی آواز نے کہا کہ ’’بادل کی ان سات رعدوں سے جو بات ہوئی اس پر مُہر کر رکھ اور مت لکھ۔‘‘ (مکاشفہ باب ۰ا آیت ۴) سورتوں کے نام رسول کریم ؐ کے رکھے ہوئے ہیں میں نے تفصیلاً سورۃ فاتحہ کے نام اس لئے گنوائے ہیں تایہ بتائوں کہ سورتوں کے نام بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رکھے ہوئے ہیں اور جیسا کہ سورۃ فاتحہ کے بعض ناموں سے ثابت ہے۔آپؐ نے بھی وہ نام الہاماً اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر رکھے ہیں۔سورۃ فاتحہ کے مختلف ناموں سے اس کے وسیع مطالب کی طرف اشارہ دوسرے میری غرض ان ناموں کے گنوانے سے یہ ہے کہ ان سے سورۃ فاتحہ کے وسیع مطالب پر روشنی پڑتی ہےیہ نو نام درحقیقت دس مضمون ہیں جو سورۃ فاتحہ بیان کرتی ہے۔وہ فَاتِحَۃُالْکِتَابِ ہے۔یعنی قرآن کریم میں سب سے پہلے اس کے رکھنے کا حکم ہے۔دوسرے وہ مطالب قرآنی کے لیے بمنزلہ ایک کلید کے ہے کہ اس کے ذریعہ سے قرآن کریم کے مطالب کھلتے ہیں۔پھر سورۃ فاتحہ سُوْرَۃُ الْحَمْد ہے یعنی اس سورۃ نے انسان اور خدا کے تعلقات پر اور انسانی پیدائش پر اس رنگ میں روشنی ڈالی ہے کہ اس سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ انسانی پیدائش اعلیٰ ترقیات کے لئے ہے اور یہ کہ خدا تعالیٰ کا تعلق بندوں سے رحم اور فضل کی بنیادوں پر قائم ہے۔پھر وہ اَلصَّلٰوۃ ہے یعنی کامل دعا اس میں سکھائی گئی ہے جس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی اور وہ اُمّ الکتاب ہے اس میں وہ تمام علوم جن کے ذریعہ سے دوسروں کو خطاب کیا جاتا ہے بیان کردئے گئے ہیں اور یہ بھی کہ وہ کتاب کریم یعنی قرآن مجید کے لئے بمنزلہ ماں کے ہے یعنی قرآن کریم کے نزول کا موجب وہ دعائیں ہیں جو سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں اور جو درد مند دلوں سے اُٹھ کر عرشِ عظیم سے قرآن کریم کو لائی ہیں اور وہ اُمُّ الْقُرْآن ہے اس میں وہ تمام علوم جو انسان کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں بیان کر دیئے گئے ہیں اور وہ اَلسَّبْعُ الْمَثَانِی ہے یعنی گو صرف سات آیتیں اس میں ہیں لیکن ہر ضرورت ان سے پوری ہو جاتی ہے۔روحانیت کا کوئی سوال ہو کسی نہ کسی آیت سے اس پر روشنی پائی جائےگی گویا علمی سوالوں کے حل کرتے وقت بار بار حوالہ کے طو رپر اس کی سات آیتیں دُہرائی جائیں گی اور اس لئے بھی وہ مثانی ہے کہ نماز کی ہر رکعت میں اسے پڑھا جاتا ہے۔وہ قرآن عظیم بھی ہے یعنی باوجود اُمُّ الْکِتَاب اور اُمُّ الْقُرْآن کہلانے کے وہ قرآن کریم کا حصہ بھی ہے اور اس سے الگ نہیں جیسا کہ بعض لوگوں نے غلطی سے سمجھ لیا ہے۔قرآن عظیم سورۃ فاتحہ کو انہی معنوں سے کہا گیا ہے جس طرح ہم کسی سے کہتے ہیں قرآن سنائو اور مراد اس سے ایک سورۃ یا ایک رکوع ہوتا ہے