تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 4
روایت مروی ہے لیکن مِنْ کُلِّ دَآئٍ کی جگہ شِفَاءٌ مِّنَ السَّمِّ کے الفاظ ہیں یعنی زہر کا علاج ہے۔(۸) اَلرُّقْیَۃُ یعنی دَم کرنے والی سورۃ۔یہ نام بھی حضرت ابو سعید خدریؓ کی روایت مذکورہ مسند احمد بن حنبل و بخاری میں درج ہے۔(بخاری کتاب فضائل القرآن باب فاتحۃ الکتاب اور مسند احمد بن حنبل مسند ابی سعید خدری) ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ کسی کو سانپ نے ڈس لیا تھا میں نےاس پر سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تھا اور اسے شفا ہو گئی اس پر آپؐ نے فرمایا۔مَا یُدْرِیْکَ اَنَّہَا رُقْیَۃٌ تم کو کس طرح معلوم ہوا کہ یہ دَم کرنے والی سورۃ ہے۔اس صحابی نے جواب دیا۔یا رسول اللہ! بس میرے دل میں ہی یہ بات آگئی۔(۹ ) سُوْرَۃُ الْکَنْزِ بیہقی نے حضرت انسؓ سے روایت کی ہے عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ اَعْطَانِیْ فِیْمـَا مَنَّ بِہٖ عَلَیَّ فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ وَقَالَ ھِیَ کَنْزٌ مِّنْ کُنُوْزِ عَرْشِیْ (تفسیرفتح البیانزیر تفسیر سورۃ الفاتحۃ) یعنی رسول کریم صلعم نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے جو احسان فرما کر مجھے انعام دیئے ہیں ان میں سے ایک فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ بھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا کہ یہ میرے عرش کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔فاتحہ نام میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔پس یہ نو نام قرآن و حدیث سے ثابت ہیں۔ان کے علاوہ اور نام بھی اس سورۃ کے صحابہ سے مروی ہیں۔امام سیوطیؒ نے ان کی تعداد پچیس تک لکھی ہے۔علامہ قرطبی نے بارہ نام لکھے ہیں۔لیکن باقی نامو ںکا ثبوت چونکہ قرآن و حدیث سے مجھے نہیں ملا۔میں نے انہیں بیان نہیں کیا۔سورۃ فاتحہ کے متعلق پہلی کتب میں پیشگوئی فاتحہ نام جو اس سورۃ کا بیان ہوا ہے اس کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ یہ نام پیشگوئی کے طو رپر پہلی کتب میں بھی آیا ہے۔چنانچہ مکاشفات باب ۱۰ آیت ۲ ،۳میں لکھا ہے۔’’اور اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی کتاب کھلی ہوئی تھی اور اس نے اپنا داہنا پائوں سمندر پر اور بایاں خشکی پر دھرا اور بڑی آواز سے جیسے ببر گرجتا ہے پکارا۔او رجب اس نے پکارا تب بادل نے گرجنے کی اپنی سات آوازیں دیں۔‘‘ اس سورۃ کا نام اور اس کی آیات کی تعداد بطور پیشگوئی مرقوم ہے۔مترجم نے پیشگوئی کی اصل حقیقت سے ناآشنا ہونے کے باعث عبرانی لفظ فتوحہ کا ترجمہ کھلی ہوئی کتاب کیا ہے حالانکہ فتوحہ یعنی فاتحہ سورۃ کا نام بتایا گیا تھا۔اس پیشگوئی میں جو گرج کی سات آوازوں کا ذکر ہے ان سے مُراد اس سورۃ کی سات آیات ہیں۔مسیحی مصنّفین بالاتفاق تسلیم کرتے ہیں کہ مکاشفات کے مذکورہ بالا حوالہ میں مسیح کی آمد ثانی کے متعلق پیشگوئی ہے اور یہ بات بالکل درست ہے۔پیشگوئی کے الفاظ سے ثابت ہے کہ آنے والے مسیح کے زمانہ تک یہ سورۃ مقفّل رہے گی یعنی اس کا