تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 6

سورۃ فاتحہ شفا ہے کہ اس میں تمام ان وساوس کا ردّ ہے جو انسان کے دل میں دین کے بارہ میں پیدا ہوتے ہیں او روہ رُقْیَۃ ہے کہ علاوہ دم کے طور پر استعمال ہونے کے اس کی تلاوت شیطان اور اس کی ذرّ ّیت کے حملوں سے انسان کو بچاتی ہے اور دل میں ایسی قوت پیدا کرتی ہے کہ شیطان کے حملے بے ضرر ہو جاتے ہیں اور وہ کَنز بھی ہے کہ علوم و فنون کے اس میں دریا بہتے ہیں۔اُردو میں دریا کوزے میں بند کرنے کا ایک محاورہ ہے اس کا صحیح مفہوم شاید سورۃ فاتحہ کے سوا اور کسی چیز سے ادا نہیں ہو سکتا بلکہ اس سورۃ کے بارہ میں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ سمندر کوزہ میںبند کر دیا گیا ہے۔غرض اسماء کے گنانے سے میرا منشاء پڑھنے والے کے ذہن کو ان وسیع مطالب کی طرف توجہ دلانا تھا جو رسول کریم صلعم نے مختلف ناموں کے ذریعہ سے اس سورۃ کے بیان فرمائے ہیں ورنہ حقیقت سے خالی نام کسی سورۃ کے نوچھوڑ سوبھی ہوں تو ان سے کوئی مقصد پورا نہیں ہوتا اور رسول کریم صلعم ایسا بے فائدہ فعل ہر گز نہیں کر سکتے تھے۔پس سوچنے والوں کے لئے ان ناموں میں ایک اعلیٰ روشنی اور کامل ہدایت ہے۔فضائل سور ۃ فاتحہ سورۃ فاتحہ کے فضائل مختلف احادیث میں اس سورۃ کے بہت سے فضائل حدیثوں میں بیان ہیں جن میں سے بعض کی طرف تو میں اس کے ناموں میں اشارہ کر چکا ہوں اور بعض جو زیادہ تفصیل سے بیان ہوئے ہیں ان کا ذکر اب کرتا ہوں۔نسائی نے اُبی ّبن کعب سے روایت کی ہے۔قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فِی التَّوْرَاۃِ وَلَا فِی الْاِنْجِیْلِ مِثْلَ اُمِّ الْقُرْآنِ وَھِیَ السَّبْعُ الْمَثَانِیْ وَھِیَ مَقْسُوْمَۃٌ بَیْنِیْ وَبَیْنَ عَبْدِیْ وَلِعَبْدِیْ مَاسَأَلَ(سنن النسائی کتاب الافتتاح باب تاْویل قول اللہ عزوجل ولقد اٰتیناک سبعا من المثانی) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے نہ توراۃ میں نہ انجیل میں کوئی ایسی سورۃ اُتاری ہے جیسی کہ اُمُّ الْقُرْآن (یعنی سورۃ فاتحہ) ہے اور اس کا ایک نام اَلسَّبْعُ الْمَثَانِیْ بھی ہے۔سورۃ فاتحہ کی ایک فضیلت اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بارہ میں مجھے فرمایا ہے کہ وہ میرے اور میرے بندے کے درمیان بحصّہ مساوی بانٹ دی گئی ہے اور اس کے ذریعہ سے میرے بندے جو دُعا مجھ سے کریں گے وہ ضرور قبول کی جائے گی۔یہ فضیلت نہایت اہم ہے کیونکہ اس میں ایک عملی ُگر بتایا گیا ہے جو انسان کے لئے دین و دُنیا میں مفید ہے یعنی جو دُعا اس کے ذریعہ سے کی جائے وہ قبول کی جاتی ہے۔