تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 75

کھڑے ہو جاتے تھے۔ایران میں سیدھا کھڑا ہو جانا اظہار ادب کی علامت تھا۔غرض ہر قوم میں اظہار عقیدت کی کوئی نہ کوئی علامت مقرر ہے۔مگر نماز ایک ایسا شعار ہے جس میں اسلام نے اس قسم کے تمام آداب کو جمع کر دیا ہے۔اس کا فائدہ یہ ہےکہ یوں تو ایک مومن کو ساری نماز میں ہی لذّت آتی ہے مگر جب کوئی شخص اپنے قومی شعار میں پہنچے گا تو اسے کمال لذّت محسوس ہو گی۔عیسائی تشہد کے وقت کو پسند کرتا ہے کیونکہ ان میں تشہد کا رواج ہے۔ہندوستانی کو سجدے کی حالت میں بڑا تذلّل معلوم ہو تا ہے ایرانی کو ہاتھ چھوڑ کر کھڑا ہونے میں تذلّل معلوم ہوتا ہے۔یہودی کو رکوع میں بڑا تذلّل معلوم ہو تا ہے۔غرض جو قوم بھی اسلام میں داخل ہو تی ہے وہ اپنی روح کی تسکین اسلامی نماز میں پا تی ہے۔دیکھو یہ کتنی بڑی خوبی ہے جو اسلام میں پائی جاتی ہے اس نے بتا دیا کہ اسلام میں ساری دنیا نے شامل ہو نا ہے۔باقی قوموں کی عبادتوں میں یہ چیز اتنے لطیف طریق پر نظر نہیں آتی۔پھر وضو کو لے لو۔اسلام نےنماز سے پہلے وضو مقرر کیا ہے جو ایک نہایت اہم ذریعہ عبادت کی تکمیل کا ہے۔تجربہ سے ثابت ہوا ہے کہ جب خیالات کا اجتماع ایک چیز پر ہوجاتا ہےتو اس کے مختلف حصوں سے جہاں اعصاب کے سرے ختم ہوتے ہیں NERVES ENDSاس کی طاقت ضائع ہو نی شروع ہو جاتی ہے اور خیالات میں پرا گندگی پیدا ہو جاتی ہے اگر پانی کا چھینٹا دیاجائے تو اعصاب کو سکون حاصل ہوکر خیالات مجتمع ہو جاتے ہیں۔وضو کے ذریعہ سے انتشار خیالات کو روکا گیا ہے۔پھر یہی نہیں کہ صرف وضو کا حکم دیا گیا ہے بلکہ نماز کے ابتدا اور انتہا میں اللہ تعالیٰ نے نوافل بھی رکھ دیئےہیں۔اسی طرح نماز کے بعد ذکر الٰہی کی تاکید ہے۔اس طرح نہ صرف اس نے پہلے خیالات کو نماز میں پیدا ہونے سے روک دیا ہے بلکہ بعد میں آنے والے خیالات کو بھی ایک وقت تک دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہر کام وقت سے کچھ دیر پہلے شروع کر دیا جاتا ہے۔مثلاً ہم نے دس بجے کی گاڑی سے جانا ہے تو آٹھ بجے سے ہی اس کا خیال آنا شروع ہو جائے گا۔ہم روزہ رکھتے ہیں تو سورج غروب ہو نے سے پندرہ بیس منٹ پہلے ہی ہم روزہ کھولنے کی تیاری شروع کر دیتے ہیں۔یہی حال دوسرے کاموں کاہے یعنی پہلے کام کا اثر کچھ دیر تک چلا جاتا ہے اور اگلا کام کچھ دیر پہلے شروع ہوجاتا ہے۔اس لحاظ سے اگر نماز سے پہلے وضو اور بعد میں نوافل وغیرہ نہ رکھے جاتے تو آدھی نماز تو پہلے خیالات میں ضائع ہو جاتی اور آدھی دوسرے خیالات میں۔اس نقص کے ازالہ کے لئےخدا تعالیٰ نے پہلے وضو رکھا اور فرائض سے پہلے سنتیں اور نوافل رکھ دیئے۔اسی طرح فرائض کے بعد کچھ سنتیں اور نوافل رکھ دیئے۔اس طرح نماز کو اس نے دو دیواروں کے درمیان محفوظ کر دیا۔اگر ان تدابیر کے ہو تے ہوئے پھر بھی کسی کی نماز ضائع ہو جائے تو یہ اس کا اپنا قصور ہو گا۔بہر حال خدا تعالیٰ نے انسان