تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 74
کہ وہ بتائے کہ شریعت کے ہو تے ہوئےانسانی عقل کی کیوں ضرورت ہے۔یا عقل کے ہو تے ہوئے شریعت کی کیوں ضرورت ہے۔مگر سوائے قرآن کریم کے اور کوئی کتاب اس پر روشنی نہیںڈالتی۔اب ہم تفصیلات کو لیتے ہیں۔پہلے اصولِ شرائع ہیں۔اسلام نے اصول شرائع پانچ قرار دیئے ہیں۔(۱) ایمان باللہ۔جس میں صفات، ملائکہ، انبیاء، قضاء و قدر، بعث بعد الموت سب چیزیں شامل ہیں۔اس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔(۲) عبادت۔یہ تین قسم کی ہو تی ہے (۱) عبادت مشتمل بر حرکات جسم وذکر الٰہی جیسے نماز (۲) عبادت ذکری جیسے ذکر الٰہی (۳) عبادت فکری یعنی تدبّر در صفات الٰہیہ۔قرآن کریم نے ان سب قسموں کی عبادت کا ذکر کیا ہے۔نماز اسلامی کچھ حرکات جسم اور کچھ اذکار پر مشتمل ہے اور اسلامی نماز کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ اس کی تمام حرکات باوقار، باغرض اور با فائدہ ہیں اور اس میں وہ تمام طریق اختیار کئے گئے ہیں جومختلف اقوام میں اظہار ادب کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ایرانی اقوام میں ہاتھ چھوڑ کر کھڑے ہو جانا اظہار ادب کی علامت ہے۔ترکی نسل کی اقوام میں ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جانا اظہار ادب کی علامت ہے۔ہندوؤں اور بعض دوسری اقوام میں جھکنا اظہار ادب کی علامت ہے۔ہندوستان اور افریقہ میں سجدے کے طور پر گر جانا اظہار ادب کی علامت ہے اور یورپین اقوام گھٹنے کے بل بیٹھ جانے کو اظہار ادب کی علامت سمجھتی ہیں۔ہندو اور سکھ اب تو الگ ہو گئے ہیں پہلے وہ جب کبھی ملنے کے لئے آتے تھے تو خواہ انہیں کتنا بھی منع کرتے رہو وہ پیروں میں گر جاتے تھے۔ایک سکھ جس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عقیدت تھی ایک دن میرے زمانہ خلافت کی ابتدا میں روتا ہوا میرے پاس آیا اور کہنے لگا آپ کی جماعت نے مجھ پر بڑا ظلم کیا ہے میں نے سمجھا کہ شاید کوئی لڑائی ہو گئی ہے او رکسی نے مارا ہے۔میں نے اسے تسلی دی اور کہا کہ میں فوراً تحقیقات کروا کے سزا دوں گا آپ مجھے بتائیں کہ ہواکیا ہے۔اس نے کہامیں بہشتی مقبرہ گیا تھا وہاں مرزا صاحب کی قبر پر سجدہ کر رہا تھا کہ احمدیوںنے پکڑ کر مجھے باہر نکال دیا۔میں نے کہا یہ تو انہوں نے ٹھیک کیا۔ہمارے مذہب میں یہ ناجائز ہے۔وہ کہنے لگا میرا مذہب میرے ساتھ ہے اور آپ کا مذہب آپ کے ساتھ ہے میں جیسا چاہوں کروں ان کا کیا حق تھا کہ مجھے روکتے۔غرض بڑی دیر تک اسے سمجھانا پڑا اور پھر کہیں اس کا غصہ فرو ہوا۔اسی طرح افریقہ میں اظہار عقیدت کے طور پر سب لوگ سجدہ میں گر جاتے ہیں۔ترکوں میں مَیں نے دیکھا ہے کہ جب وہ مثنوی رومی پڑھتے ہیں تو ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔مغل بھی تعظیم کے لئے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر