تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 76
کے لئے اس بات کا موقع بہم پہنچا دیا ہے کہ وہ دنیوی خیالات سے علیحدہ ہوکر نماز ادا کرسکے اور اس نے عبادت کو شیطانی حملہ سے ہر ممکن طریق پر محفوظ کر دیا ہے۔اس کے مقابل پر ہندو اور مسیحی عبادت گانے بجانے کانام ہے جو محض تلذّذ ہے عبادت نہیں یا چند بے معنی رسموں کا نام عبادت رکھ دیا گیا ہے۔مثلاً آگ جلائی اور اس میں تیل ڈالا شعلہ نکلا اور منہ سے کوئی لفظ کہہ دیا اس سے قلب کی کیا صفائی ہو گی۔سُبْـحَانَ اللہِ العَظِیْمِ کہنے سے تو دل کی صفائی کا تعلق نظر آتا ہے مگر آگ کا شعلہ نکلنے پر صاحا کہہ دینے سے ہمیں کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اسی طرح زردشتی نماز سورج اور پانی کی طرف منہ کر کے پڑھی جاتی ہے اور بے شک وہ چند ادعیہ پر مشتمل ہے مگر مشرکانہ رنگ پکڑ گئی ہے اور یہودی نماز تو سجدہ سے ہی خالی ہے پھر وہ کسی اصل پر بھی مبنی نہیں۔غرض اسلامی نماز میں (۱) سب ارکانِ ادب کو شامل کیا گیا ہے (۲) اسلام نے ایک قبلہ قائم کیا ہے جو اتحاد کے لئے ضرور ی ہے۔دوسری قوموں میں یہ چیز نہیں پائی جاتی۔ہم یہ مانتے ہیں کہ جہاں اجتماعی دعا ہو تی ہے وہاں دوسری اقوام بھی کسی نہ کسی طرف منہ کر کے بیٹھتی ہیں۔لیکن انہیں یہ احساس نہیںہوتا کہ دنیا کے سب لوگ ان کے ساتھ شریک ہو کر یہ کام کر رہے ہیں لیکن مسلمانوں میں سے افریقہ والے مشرق کی طرف منہ کرتے ہیںیورپ والے جنوب کی طرف منہ کرتے ہیں ایران والے شمال کی طرف منہ کرتے ہیں۔ہندوستان والے مغرب کی طرف منہ کرتے ہیں۔اور ان کی حالت بالکل ویسی ہی ہو تی ہے جیسے ہندو لوگ ہَوَن کے چاروں طرف بیٹھ جاتے ہیں۔وہ سب کے سب ایک ہی سمت کی طر ف منہ کر لیتے ہیں خواہ دنیا کے کسی گوشہ میں رہتے ہوں لیکن یہودی، عیسائی اور ہندو جدھر بھی چاہتا ہےمنہ کر لیتا ہے۔کسی کامنہ شمال کی طرف ہوتا ہے تو کسی کا جنوب کی طرف، کسی کا منہ مشرق کی طرف ہوتا ہے تو کسی کا مغرب کی طرف۔کسی کی کرسی ادھر پڑی ہو ئی ہوتی ہے تو کسی کی اُدھر۔پادری جب عبادت کرواتا ہے تو کچھ آدمی اس کے دائیں طرف ہوتے ہیں اور کچھ اس کے بائیں طرف ہو تے ہیں۔کچھ نمائندے اور مدد گار اس کے پیچھے کھڑے ہوجاتے ہیں۔کوئی پانی لئے کھڑا ہوتا ہے توکوئی شمع ہاتھ میں لئے کھڑا ہو تا ہے۔غرض انہیں اس بات کا کوئی احساس نہیں ہوتا کہ وہ آپس میں یک جہتی اور اتحاد رکھتے ہیں لیکن ساری دنیا کے مسلمانوں میں خواہ وہ شمال میں رہتے ہوں یا جنوب میں۔مشرق میں رہتے ہوںیا مغرب میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ وہ ایک سمت کی طرف منہ کر کے کھڑے ہیں۔یہ ایک بہت بڑا اتحاد کا ذریعہ ہے بشرطیکہ مسلمان اس سے فائدہ اٹھائیں۔مگر اس کے ساتھ ہی اسلام نے یہ بھی کہہ دیا کہ قبلہ اپنی ذات میں کوئی خوبی نہیں رکھتا تاکہ شرک پیدا نہ ہو۔وہ فرماتا ہے لِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ (البقرۃ: ۱۱۶)اللہ تعالیٰ کے لئے مشرق اور مغرب سب برابر ہیں جدھر منہ