تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 73

میں دخل نہیں دیتی۔اب سوال یہ ہے کہ وہ کیوں دخل نہیں دیتی۔بھول کر چھوڑ دیتی ہے یا جان بوجھ کر چھوڑ دیتی ہے؟ ان چیزوں کا صرف قرآن کریم نے ہی ذکر کیا ہے باقی سب کتابیں خاموش ہیں اور یہ ایک بہت بڑی فضیلت ہے جو قرآن کریم کو دوسری کتب پر حاصل ہے۔(۳) شریعت کے ہو تے ہوئے انسانی عقل کی ضرورت یا عقل کے ہوتے ہوئے شریعت کی ضرورت۔یہ بھی ایک اہم سوال ہے جس کے حل کئے بغیر شریعت کی ضرورت تسلیم نہیں کی جا سکتی۔جاہل تو ہر بات مولوی سے پوچھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ عقل کی کوئی ضرورت نہیں۔یہ رواج خصوصاً یو پی میں پایا جاتا ہے۔اس پر بعض مولوی اپنے پاس سے ہی مسئلہ بنا کر بتا دیتے ہیں۔میرے ایک عزیز ڈاکٹر ہیں وہ ایک دن شکار کے لئے باہر گئے اور انہوں نے ایک ہرن مارا۔ایک زمیندار بھاگا بھاگا ان کے پاس آیا اور کہا بابو جی ! کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کی تکبیر کیا ہے؟ ڈاکٹر صاحب نے کہا وہی تکبیر ہے جسے پڑھ کر ہم بکرے اور مرغے ذبح کرتے ہیں۔اس نے کہا نہیں سب کی تکبیر ایک نہیں بلکہ الگ الگ ہے۔ہم کو جو ملّاں نے ہرن کی تکبیر بتائی ہے وہ یہ ہے کاہے کو اُچھلت، کاہے کو کودت، کا ہے کو کھاوت پرایو کھیت، تجھ کو آئی جِلّت ہم کو آئی اِجّت اللہ اکبر۔غرض عوام الناس تو سمجھتے ہیں کہ ہر کام میں اللہ تعالیٰ کا حکم موجود ہے اور وہ اپنے مولوی سے پو چھتے ہیں کہ مولوی صاحب چھپائیے نہ ہمیں بتا دیجئےکہ اس بارہ میں اللہ تعالیٰ کا کیا حکم ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ مولوی لوگ ہم سے اصل مسئلہ چھپاتے ہیں بتاتے نہیں۔اب جو عالم ہو گا وہ تو ان کو کہہ دے گا کہ جاؤ میاں اس کا بھی وہی حکم ہے جو فلاں کام کا ہے اور جو جاہل مولوی ہو گا وہ اپنے پاس سے کوئی ڈھکوسلہ بتا دے گا تاکہ اس کی عزت بنی رہے۔ہندوستان کے بعض علاقوں میں رواج ہے کہ ہر گھر میں ایک چھری رکھی ہوئی ہوتی ہے جس سے وہ جانور ذبح کرتے ہیں۔نہ بسم اللہ اور نہ اللہ اکبر کچھ نہیں پڑھتے۔وہ کہتے ہیں کہ اس چھری پر ملّاں تکبیر پڑھ گیا تھا اس لئے اب نئی تکبیر کی ضرورت نہیں۔یہودیوں میں بھی یہی رواج تھا اور ہے۔انہوں نے چھریاں رکھی ہوئی ہیں۔علما ء ایک دفعہ ان پر تکبیر پڑھ جاتے اور پھر انہی سے وہ جانور ذبح کر لیا کرتے ہیں۔تکبیر پڑھنے کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔اس کے مقابلہ میں تعلیم یافتہ طبقہ یہ کہتا ہے کہ ہمارے کاموں سے خدا تعالیٰ کا کیا تعلق۔کیا ہم احمق ہیں۔کسی زمانہ میں جاہلوں کے لئے خدا تعالیٰ نےاحکام نازل کئے تھے۔ہم تو ہرقسم کے اصولوں کو جانتے ہیں۔علوم و فنون سے آگاہ ہیں۔عقل ہمارے پاس ہے ہمارے ساتھ ان احکام کا کوئی تعلق نہیں۔غرض عوام الناس تو شریعت کو ان حدود میں لے جانا چاہتے ہیں جن میں خدا تعالیٰ اسے نہیں لے جانا چا ہتا اور تعلیم یافتہ طبقہ عقل کو ان حدود میں رکھنا چا ہتا ہے جن میں خدا تعالیٰ اسے نہیں رکھنا چا ہتا۔اب یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے