تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 72
مقابلہ ان دونوں کتابوں سے کرتے ہیں تو ہمیں یہ عظیم الشان فرق نظر آتا ہے کہ (اوّل) تعلیم کی جو اصل غرض ہے وہ قرآن کریم کے سوا باقی تمام کتابوں میں مفقود ہے۔یہ ظاہر ہے کہ شریعت خدا تعالیٰ نے کسی اپنے لطف کے لئے نازل نہیں کی۔جیسے سپین میں لوگوں کو بیل لڑوانے کا شوق ہے یا ہندوستا ن میں لوگ ہاتھی لڑوایا کرتے تھے اور بادشاہ پاس بیٹھ کر تماشا دیکھا کرتے تھے۔یہ تو خدا تعالیٰ کی غرض نہیںہو سکتی تھی کہ ہم سخت سردی کے موسم میں وضوکے لئے ہاتھ دھو رہے ہوں اور خدا تعالیٰ آسمان پر ہنس رہا ہو۔ہم روزے رکھ رہے ہوں اور وہ یہ دیکھ کر کہ ہمارے قدم نہیں اٹھ رہے اور بھوک کی وجہ سے ہماری آنکھیں زرد ہو رہی ہیں آسمان پر قہقے مار رہا ہو۔یہ تو اس سے امید نہیں کی جاسکتی۔بہر حال اس نے شریعت ہمارے فائدے کے لئے نازل کی ہے۔دنیا میں حکومتیں بھی خواہ وہ کتنی ہی معمولی ہوں جب کوئی قانون بناتی ہیں توان میں سے کوئی شاذ و نادر ہی لغو ہوتا ہے۔بالعموم ان میں کوئی نہ کوئی رعایا کا فائدہ مدّ ِنظر ہو تا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے احکام میں بھی انسان کے لئے کوئی نہ کوئی بھلائی ضرور مدّ ِنظر ہو تی ہے۔لیکن سوائےقرآن کریم کے جتنی بھی الہامی کتب ہیں ان کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے شریعت کوایک چٹی کے طور پر پیش کیا ہے۔وید تو بالکل پردوں تلے ہیں۔ان سے شریعت کا کوئی پتہ نہیں لگتا۔تورات اور ژند اوستا کو پڑھنے سے بھی یہ تو پتہ چلتاہے کہ ان میں شریعت موجود ہے لیکن ایسا معلوم ہو تا ہے جیسے شریعت اس لئے نہیں کہ اس میں انسان کا نفع ہے بلکہ اس لئے ہے کہ خدا یوں چاہتا ہے جس کی وجہ سے شریعت کی اصل غرض جو اصلاح ہے فوت ہو جاتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان میں بعض احکام ایسے بھی ہیں جو انسان کے نفع کے لئے ہیں۔لیکن اتفاقی طور پر کسی ایسے حکم کا نکل آنا اور بات ہے۔یہ صرف قرآن کریم نے ہی بتایا ہے کہ سب احکام انسان کے فائدہ کے لئے ہیں۔بے شک وہ بعض دفعہ بندے کا امتحان بھی لیتا ہے مگر اصل حکم انسان کے فائدہ کے لئے ہی ہو تا ہے۔وہ فرماتا ہے لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ( الحج:۳۸) قربانیوں کو ذبح کرنے کا حکم دینے سے ہمارا یہ مقصد نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان کی بوٹیاں پہنچتی ہیں، خدا تعالیٰ کو ان کا خون اور بوٹیاں نہیں پہنچتیں بلکہ وہ تقویٰ پہنچتا ہے جس کے ماتحت تم قربانی کرتے ہو۔ورنہ گوشت تو ہم تمہیں ہی کھلا دیتےہیں۔ہم اگر تم سے قربانیاں کرواتے ہیں تو اس لئے تا تمہارے اندر اخلاص پیدا ہو، تمہارے اندر خشیت پیدا ہو، تمہارے اندر نیکی اور صلاحیت پید اہو۔یہ احکام محض چٹی کے طور پر نہیں۔(۲)شریعت کا دائرہ کیا ہے۔وہ کن امور میں حکم دیتی ہے اور کن میں نہیں اس بارہ میں بھی سب کتب خاموش ہیں۔صرف قرآن کریم ہی روشنی ڈالتا ہے آخر یہ واضح بات ہے کہ شریعت بعض کاموں میں دخل دیتی ہے اور بعض