تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 71
نازل نہیں ہوا۔کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ جھوٹے نبیوں پر عذاب آتا ہے۔ہم الحمد اللہ کہہ کر اسے قبول کر لیں گے۔پس اصولاً ہر قوم میں نبی آئے ہیں لیکن ان میں سے حضرت زردشت ؑ اور حضرت موسٰی دو معلوم نبی ہیں جن کی شریعت موجود ہے۔ویدوں کے رشیوں کا کچھ پتا نہیں۔ویدوں نے شریعت ضرور پیش کی ہے مگر نبی کے نام کا سوال رہ جاتا ہے اور یہ پتہ نہیں لگتا کہ وید کس پر نازل ہوئے۔اس لئے ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے۔اسی طرح حضرت نوح علیہ السلام کی شریعت موجود نہیں البتہ ایک اور شخص ہے جس کے متعلق پتہ چلتا ہے کہ اس نے کچھ قوانین پیش کئے لیکن شریعت کا پوراپتہ نہیںلگتا۔الہام کا ذکر اس کی تحریروں میں ضرور ہے او ریہ بھی پتہ لگتا ہے کہ وہ توحید کا قائل تھا اور اس نے اخلاق کے بہت عمدہ اصول پیش کئے ہیں وہ حمو رابی تھا۔جس کے بعض احکام عمدہ تعلیم پر مشتمل ہیں۔لیکن پوری تفصیل معلوم نہیں ہوئی اور نہ ہی یہ پتہ لگتا ہے کہ اس نے کوئی نئی شریعت پیش کی تھی یا اپنے سے پہلے کسی نبی کی شریعت پیش کی تھی۔پس حقیقتاً صرف دو ہی نبی رہ جاتے ہیں جن کی شریعت معلوم ہے (۱) حضرت زردشت علیہ السلام (۲)حضرت موسیٰ علیہ السلام۔یہ ظاہر ہے کہ کوئی نبی ایسا نہیں ہو سکتاجو تعلیم کو چھپائے۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایک شخص کو پیغام دے کر لوگوں کی طرف بھیجے اور وہ اس کو چھپائے۔پس وہ شریعت کو تو نہیں چھپا سکتا۔ہاں دوسرے الہاموں کو مصلحتِ وقتی کے ماتحت چھپایا جا سکتا ہے۔جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف نکلے تو آپ کو رستہ میں بتایا گیا کہ آپ کا مقابلہ مکہ سے آنے والے لشکر کے ساتھ ہو گا۔مگر ساتھ ہی یہ سمجھادیا گیا کہ یہ الہام ابھی ظاہر نہ کیا جائے۔بعد میں جب آپ نے مناسب سمجھا تو صحابہ ؓ کو وہ الہام بتایا۔یہ امتحان کی ایک صورت تھی۔لیکن شریعت والی تعلیم نہیں چھپا ئی جا سکتی۔پس تعلیمِ کتاب کا کام درحقیقت تمام انبیاء کرتے ہیں۔اس لئے یہاں سوال پید اہو تا ہے کہ جب سب نبی ہی کتاب سکھا نے آئے تھے اور ان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہیں تو پھر آپؐکی ان پر فضیلت کیسے ثابت ہوئی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں مقابلہ اظہارِ تعلیم میں نہیں بلکہ کمالِ تعلیم میں ہے۔اظہارِ تعلیم میں تو سب برابر ہیں لیکن کمالِ تعلیم کے لحاظ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کچھ ملا اس میں کوئی دوسرا نبی آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔چنانچہ اَلْکِتَابِ کے لفظ میں الف لام کمال کے معنے دیتے ہیں جو لغت عرب سے ثابت ہیں اور اسی کی طرف یُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ کہہ کر اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ نبی تم کو کامل کتاب سکھاتا ہے(مغنی اللبیب)۔جیسا کہ میں اوپر بتا آیا ہوں شریعت والے معلوم نبی صرف دو ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت زردشت علیہ السلام۔ان میں سے ایک نبی کی کتاب تورات ہے اور دوسرے نبی کی کتاب اوستا۔جب ہم قرآن کریم کا