تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 70

آگ جل رہی ہے حضرت کرشن آگ کے وسط میں کھڑے ہیں اور رام چند رجی کنارے پر کھڑے ہیں۔معلوم ہوا کہ یہ دونوں جھوٹے ہیں۔آپ نے فرمایا خواب کی تعبیر خواب کی زبان میں ہی ہو تی ہے۔آگ کے معنے ہیں محبت الٰہی۔حضرت کرشن جی کے آگ میں کھڑا ہو نے کا مطلب یہ ہےکہ آپ محبتِ الٰہی کے مرکز میں کھڑے ہیں اور رام چندر جی چونکہ آپ سے چھوٹے درجہ کے ہیں اس لئے وہ کنارے پر کھڑے ہیں۔غرض قرآن کریم کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہر قوم میں نبی گذرے ہیں۔اب اگر کوئی آ کر کہے کہ ہماری قوم میں فلاںنبی گذرا ہے اور اس کے واقعات نبیوں کے سے ہوں تو ہم کہیں گے سبحان اللہ کتنی بڑی آسانی پید اہو گئی۔میں تو عیسائیوں اور یہودیوں اور ہندوؤں سے ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ قرآن کریم نے ہمارا کام آسان کر دیا ہے آپ کاکام بہت مشکل ہے۔مثلاً جب یہودی کہیں گے کہ موسیٰ علیہ السلام نبی تھے تو ہندو کہیں گے رام رام وہ نبی کیسے ہوئے۔اگرہم کہیں گے کہ ایران میں زردشت علیہ السلام پیدا ہوئے تو یہودیوں اور ہندوؤں دونوں کو بپتا پڑ جائے گی۔ہندو رام رام کہنے لگ جائیں گے اور یہودی ایلوہیم ایلوہیم۔اے اللہ میں کیا کروں۔اچھا کوئی تدبیر سوچو جس سے زردشت علیہ السلام نبی ثابت نہ ہوں اگرہم زردشتیوں سے کہیں گےکہ ہندوستان میں بدھ نبی آیا ہے تو وہ کہیں گے ہم مارے گئے۔اچھا کوئی تدبیر سوچو جس سے اس کی نبوت ثابت نہ ہو لیکن قرآن کریم نے اِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ (فاطر:۲۵) کہہ کر بڑی آسانی پیدا کر دی ہے۔اگر کوئی ہندو آکر کہے کہ ہندوستان میں رام چندر جی نبی گذرے ہیں،کرشن جی نبی گذرے ہیں تو میں کہوں گا سبحان اللہ کتنی بڑی آسانی پیدا ہو گئی ہے مجھےمحنت نہیں کرنی پڑی۔تم نے خود بتا دیا۔میرے قرآن نے بھی تو یہی کہا ہے۔اگر تم کہتے کہ بتاؤ ہندوستان میں کون سا نبی گذرا ہےتو مجھے مصیبت پڑ جاتی۔میں چین میں جاتا ہوں اور سنتا ہوں کہ یہاں کنفیوشس علیہ السلام خدا تعالیٰ کے ایک نبی گذرے ہیں تو عیسائی اور یہودی شور مچا دیتے ہیںکہ یہ کہاں کے نبی ہو گئے۔لیکن میں کہتا ہوں سبحان اللہ کیا ہی آسانی پید اہو گئی ہے اگر وہ مجھ سے پو چھتے کہ اچھا بتاؤ ہم میں کون سا نبی آیا تھا تو میں مشکل میں پڑ جاتا۔انہوں نے خود بتا دیا اور میں محنت سے بچ گیا۔قرآن کریم بھی تو یہی کہتا ہے اِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ۔میں ایران جاتاہوں تووہاں کے لوگ کہتے ہیں یہاں زردشت علیہ السلام نبی ہوئے ہیں۔یہ سن کر یہودی اور عیسائی اور ہندو تو سر پیٹ لیتے ہیں کہ یہ کیا ہوا ہم تو سمجھتے تھے کہ ہمارے ہاں ہی نبی گذرے ہیں لیکن یہ سن کر میرا چہرہ بشاش ہو جاتا ہے۔میں کہتا ہوں سبحان اللہ آپ نے خود ہی بتا دیا ورنہ مجھے بہت محنت کر نی پڑتی۔میرے قرآن میں بھی یہی لکھا ہے۔غرض جن قوموں میں کوئی نبی گذرا ہے اور اس نے اپنے وقت میں ان کی اصلاح کی ہے اور اس پر عذاب بھی