تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 69

اِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ (فاطر:۲۵) دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں جس میں ہمارا کوئی نہ کوئی نبی نہ آیا ہو۔اگر کوئی شخص آکر ہمیں کہے کہ فلاں نبی بھی دنیا میں گذرا ہے اور اس کے حالات بظاہر نبیوں سے ملتے ہوں سوائے ان قصوں کے جو عام طور پر ساتھ ملا لئے جاتے ہیں تو اگر ہم کہہ دیں کہ وہ نبی نہیں تو ہم اپنے دین کا آپ انکار کرتے ہیں۔مثلاً ایک ہندو آکر کہتا ہے کہ وید خدا تعالیٰ کی کتاب ہے اور ہم میں بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی آتے رہے ہیں اور ہم کہہ دیں کے تم جھوٹ بولتے ہو۔وہ کہے رام چندر جی نبی تھے اور ہم کہیں جھوٹے تھے۔وہ کہے کرشن جی نبی تھے اور ان کی کتاب گیتا بھی موجود ہے جس میں ان کے بعض الہامات درج ہیں اور ہم کہیں یہ بالکل جھوٹ ہے۔پھر بدھ ہمارے پاس آئیں اور کہیں کہ بدھ نام کے ایک نبی ہندوستان میں آئے ہیں جن سے خدا تعالیٰ باتیں کرتا تھا اور ہم کہہ دیں کہ وہ نعوذ باللہ فریبی تھے تووہ فوراً قرآن کریم سے یہ آیت نکال کر ہمارے سامنے رکھ دیں گے اور کہیں گے تمہارا قرآن تو کہتا ہے کہ ہرقوم میں نبی آئے۔اب بتاؤ اگر کرشن جی نبی نہیں، اگر رام چندر جی نبی نہیں، اگر بدھ نبی نہیں تو ہندوستان میں پھر کون سا نبی آیا ہے۔ہم نے ان تینوں کو تو جھوٹا کہہ دیا اور نبی ہم کہاں سے لائیں گے۔سوائے اس کے کہ ہم کہہ دیں ہمیں معلوم نہیں۔وہ کہیں گے تمہارے قرآن نے تو کہا ہے کہ ہر ملک اور ہرقوم میں نبی آئے ہیں تم اس کا ثبوت دو۔اس صورت میں ہم مجبور ہو جاتے ہیں کہ یا تو ڈھیٹ آدمی کی طرح نہیںنہیں کرتے رہیں اور یا ہم بھی اس پٹھان کا طریقِ عمل اختیار کریں جس کے متعلق مشہور ہے کہ اس نے ایک روپیہ کے خربوزے خریدے۔وہ خربوزے میٹھے نہیں تھے اس نے غصہ میں آ کر سب پر پیشاب کر دیا اور پھر مزدوری کرنے چلا گیا۔جب پیٹ خالی ہوا اور بھوک نے ستایا تو وہ خربوزوں کے پاس واپس آیا۔ایک خربوزہ اٹھایا اور یہ کہہ کر کہ اس پر تو میں نے پیشاب نہیں کیا تھا اس نے کھا لیا اسی طرح باری باری وہ تمام خربوزے کھاتا گیا۔جب صرف ایک خربوزہ رہ گیا اور اسے بھوک نے پھر ستایا تو وہ کہنے لگا خوہ جن خربوزوں پر میں نے پیشاب کیا تھا وہ تو میں کھا گیا اس پر تو پیشاب ہی نہیں کیا تھا یہ کہہ کر وہ خربوزہ بھی کھا گیا۔یہی حال ہمارا ہو گا پہلے تو ہم سب کو جھوٹا کہہ دیں گے اور جب وہ کہے گا بولو ہندوستان میں پھر کون سا نبی آیا ہے؟ تو اس کے سوا ہم کہہ بھی کیا سکتے ہیں کہ اچھا رام چندر جی کو ہی نبی مان لیتے ہیں، کرشن جی کو ہی نبی مان لیتے ہیں، بدھ کو ہی نبی مان لیتے ہیں اور جب مجبور ہوکر ہم نے یہ کہنا ہے تو کیوں نہ سیدھی طرح ہم انہیں پہلے ہی نبی مان لیں۔کرشن جی اور رام چندر جی کے متعلق ہمارے صوفیا ء اور اولیاء نے بھی خوابیں دیکھی ہیں۔حضرت مظہر جانِ جاناں کے پاس ایک شخص آیااور اس نے کہا رام چند رجی اور کرشن جی جھوٹے ہیں۔چنانچہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ