تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 68
بن جائیں اس کی زیادہ عزت کی جاتی ہے حالانکہ وہ سب کے سب بظاہر اس کے نام میں شریک ہوجاتے ہیں۔پس نام کی شرکت کوئی معنے نہیں رکھتی اصل چیز درجہ کی شرکت ہے اور ہمارا یہ اعتقاد ہےکہ کوئی شخص اپنے درجہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے نہیں بڑھ سکتا وہ بہر حال آپ کا غلام ہی رہے گا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی شاگرد نے اگر آپ کی غلامی میں نبوت کو پالیا تو وہ آپ کی عزت کو بڑھانے کا موجب ہے، گھٹانے کا موجب نہیں۔جیسے ایک پرنسپل کے شاگردوں کا ایم اے ہو جانا کوئی ہتک نہیں ہوتی بلکہ اس کی عزت اسی میں ہوتی ہے کہ وہ جن کو پڑھائیں وہ بھی ایم اے ہوں۔غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگرد تو نبی بن سکتے ہیں مگر باقی نبیوں کے شاگرد صرف صدیق اور شہید کے درجہ تک پہنچ سکتے تھے اور یہ آپ کو انبیائے سابقین پر ایک بہت بڑی فضیلت حاصل ہے۔دو قسم کے انبیاء (۲)اب ہم دعائے ابراہیمی کے یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ والےحصہ کو لیتے ہیں۔سویاد رکھنا چاہیے کہ انبیاء دو قسم کے ہو تے ہیں۔ایک صاحب شریعت اور ایک بے شریعت۔دونوں کاکام تعلیم کتا ب ہو تا ہے۔صاحبِ شریعت نبی کاکام بھی تعلیمِ کتاب ہوتا ہے اور بے شریعت نبی کاکام بھی تعلیمِ کتاب ہو تا ہے۔ہاں صاحبِ شریعت نبی کتاب بھی لاتے ہیں اور غیر صاحب شریعت نبی کتاب نہیں لاتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ صاحبِ شریعت نبی تھے اس لئے آپ کا مقابلہ سب نبیوں سے تھا خواہ وہ شریعت لائے یا نہ لائےلیکن اس جگہ ہم آپ کا مقابلہ صاحبِ شریعت نبیوں سے کرتے ہیں۔جب صاحبِ شریعت انبیاءپر آپ کی فضیلت ثابت ہوجائے گی تو یہ لازمی بات ہے کہ غیر شرعی نبیوں سے آپ خودبخود افضل ثابت ہو جائیں گے کیونکہ ایسے نبی بہر حال اپنے سابق شریعت والے نبی سے درجہ میں ادنیٰ ہو تے ہیں۔آنحضرت کی جملہ شریعت لانے والے انبیاء پر فضیلت قرآن کریم کی رو سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلےجو صاحبِ شریعت انبیاء آئے وہ دو نبی ہیں (۱) حضرت نوح علیہ السلام اور (۲)حضرت موسیٰ علیہ السلام۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب تورات تو موجود ہے لیکن حضرت نوح علیہ السلام کی کتاب موجود نہیں۔قرآن کریم میں صرف اتنا ذکر آتا ہے۔وَ اِنَّ مِنْ شِيْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِيْمَ (الصّٰفّٰت:۸۴) یعنی حضرت نوح علیہ السلام کی جماعت میں سے ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔شریعت نوح علیہ السلام کی تھی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے تابع نبی تھے۔حضرت داؤد، حضرت زکریا، حضرت سلیمان اور یحییٰ علیہم السلام موسوی شریعت کے تابع تھےمگر ان دو صاحب شریعت نبیوں کے علاوہ قرآن کریم نے یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ